فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر سلفیت میں یہودی آباد کاروں نے اپنے طور پر فلسطینی شہریوں کی زرعی اراضی پر بلڈوزر چڑھا دیے جس کے نتیجے میں فصلوں اور زیرکاشت رقبے کو غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے۔
عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ بدھ کے روز سلفیت کے شمال میں "ارئیل” یہودی کالونی کے یہودی شدت پسندوں نے فلسطینیوں کی زیرکاشت زرعی اراضی پر بھاری مشینیں چڑھا دی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچا۔
عینی شاہدین نے مزید کہا کہ یہودی آباد کاروں نے شمالی سفلیت میں صہیونی فوجی کیمپ کے بالمقابل فلسطینیوں کی زرعی اراضی کی کھدائی شروع کی تو قابض فوج بھی اس کی مدد کو آ پہنچی۔ یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کی زیرکاشت اراضی کو ملیا میٹ کرنے کے بعد کھودی گئی اراضی کے چاروں اطراف میں خار دار تاریں لگا دیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ واردات اراضی پر غاصبانہ قبضے کی راہ ہموار کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی یہودی آباد کار فلسطینیوں کی اراضی کی کھدائی کے بعد خار دار تاروں کے ذریعے اس کی باڑ لگا کر اس پر قبضہ کرتے رہے ہیں۔
ادھر فلسطین میں یہودی بستیوں کے امور کے ماہر خالد معالی کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کار”ارئیل” یہودی کالونی کی جنوبی اور مغربی سمت میں توسیع کی اسکیم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ اگست کے بعد سے اب تک ارئیل کالونی کی جنوبی اور مغربی سمتوں میں چار مرتبہ فلسطینیوں کی اراضی ہتھیانے کے بعد کالونی میں شامل کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اسی عرصے کے دوران فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان نام نہاد امن مذاکرات کا ڈھونگ بھی رچایا جاتا رہا ہے۔
معالی کا کہنا تھا کہ "ارئیل” کالونی مغربی کنارے کی دوسری بڑی یہودی بستی ہے۔ اس میں کم سے کم 50 ہزار یہودی آباد کار رہائش پذیر ہیں، جن میں 25 ہزار یہودی مستقل بنیادوں پر رہائش پذیر ہیں، جبکہ 20 ہزار ارئیل عبرانی یونیورسٹی میں یہودی طلباء اور پانچ ہزار ارئیل انڈسٹریل ایریا میں کام کرنے والے یہودی ملازمین شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
