• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

مسجد اقصیٰ اور القدس کا دفاع کیا جائے۔ ڈاکٹر پال لارودی کی خصوصی گفتگو

جمعرات 22-05-2014
in فلسطین
0
plf interview
0
SHARES
0
VIEWS

 ڈاکٹر پال لارودی امریکی شہری ہیں، آپ کی والدہ فلسطینی اور والد امریکی شہریت یافتہ ہیں، آپ Free Palestine Solidarity Movement USAکے سربراہ ہیں اور گذشتہ کئی برس سے آزادی فلسطین کی جد وجہد میں شامل ہیں،

آپ ترکی سے بھیجے گئے فریڈم فلوٹیلا پر بھی موجود تھے اور غاصب اسرائیلیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے، فلسطینیوں کی مدد ونصرت کو اپنے ایمان کا جز قرار دیتے ہیں اور جد وجہد آزادی فلسطین کے لئے سر گرم عمل رہتے ہیں، حال ہی میں اسکائپ پر دئیے گئے ایک انٹر ویو میں انہوں نے القدس کے دفاع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ القدس کا دفاع کیا جائے ورنہ غاصب اسرائیل القدس کو یہودیانے کی خاطر مسجد اقصیٰ سمیت عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے مقدس مقامات کو نیست و نابود کر دے گا۔گفتگو کا متن درج ذیل ہے۔
ڈاکٹر پال لارودی نے کہا ہے کہ غاصب اسرائیل مسلسل مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنے کی سازشوں میں مصروف عمل ہے، مسجد اقصیٰ جسے ہم القدس نام سے بھی جانتے ہیں،بیت المقدس مسلمانوں اور اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے جو فلسطین کے ایک پروانے شہر یروشلم میں واقع ہے۔یہ دنیا میں واحد ایسا متبرک مقام ہے کہ جہاں متعدد انبیاء کرام علیہم السلام کہ جن کے پیرو کا ر یہودی بھی ہیں ، عیسائی بھی اور مسلمان بھی ہیں ، ان تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اس مقام پر عبادات انجام دی ہیں۔
انہوں نے کاہ کہ تازہ ترین حالات میں غاصب اسرائیل نے ایک طرف مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر قدس شریف میں عبادت کرنے سے روک دیا ہے تو دوسری جانب اسرائیلی صیہونیوں نے مسجد اقصیٰ کے تقدس کو پائمال کرنا اپنا معمول بنا لیا ہے، جبکہ صیہونی حکومت مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے لئے تعمیراتی سرگرمیاں بھی انجام دے رہی ہے جو زیر زمین جاری ہیں۔لارودی کاکہنا تھا کہ اس ساری منصوبہ بندی کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح صیہونی مسجد اقصیٰ کو منہدم کر دیں اور اس کے جگہ وہ اس گنبد کی تعمیر کو عمل میں لائیں جسے ’’ہیکل سلیمانی‘‘ اور انگریزی میں ’’Third Tempal‘‘کہتے ہیں۔
ڈاکٹر پال کاکہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے خلاف کاروائیوں کا آغاز اسرائیل نے غز ہ میں رہنے والے شہریوں کو القدس داخلے پر پابندی لگانے سے لیا اور اس کے بعد پھر مغربی کنارے میں آباد فلسطینیوں پر بھی اسی قسم کی پابندی عائد کی گئی کہ وہ مسجد اقصیٰ میں داخل نہیں ہو سکتے۔اسرائیلی افواج عام طور پر مسجد اقصیٰ کے دروازوں کو بند کر دیتے ہیں اور مسجد کی طرف آنے والے عبادت گزاروں کو شیلنگ اور لاٹھی چارج کے ذریعے مسجد میں داخلے سے روکا جا تا ہے ، نتیجے میں دیکھنے میں آیا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں مزاحمت کاروں نے مسجد اقصیٰ کے اطراف میں ہی نماز انجام دینے کا فیصلہ کیا اور ایسے مناظر روزانہ دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جس میں ہزاروں مسلمان مسجد اقصیٰ سے منسلک سڑکوں پر موجود نماز کی ادائیگی میں مصروف ہوتے ہیں۔اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ غاصب اسرائیل کے غیر قانونی وجود کے باعث دنیا بھر کے مسلمان بھی اگر قبلہ اول کی طرف جانا چاہیں تو نہیں جا سکتے۔
امریکی شہریت یافتہ تحریک آزادی فلسطین کے لئے سر گرم عمل کارکن ڈاکٹر پال کاکہنا ہے کہ یہ سب کچھ اسرائیل کی القدس کو یہودیانے کی پالیسی کا حصہ ہے،غاصب اسرئیل چاہتا ہے کہ اسلام، یہودیوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات کو یروشلم شہر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نابود کر دے ، اور اس کام کے لئے اسرائیلی منصوبے میں صرف مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنا ہی نہیں بلکہ یروشلم میں موجود تاریخی اور مقدس چرچ سمیت دیگر مقدس مقامات ہیں جہاں عرب فلسطینی آج بھی غاصب اسرائیلی پابندیوں کے باعث اپنی مذہبی رسومات کو ادا نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فلسطین میں موجود بزرگوں اور ان تمام لوگوں سے کہا ہے کہ جو فلسطینی عمائدین ہیں کہ وہ دنیا بھر میں غاصب اسرائیل کے ان اقدامات کو آشکار کرنے کے لئے سر گرم عمل ہو جائیں اور فلسطین کے اندر سے ایک اپیل اٹھائی جائے جس پر پوری دنیا کے لوگوں کی توجہ مبذول کروائی جائے اور اقوام عالم سے مطالبہ کیا جائے کہ فی الفور غاصب اسرائیل کو پابند کریں کہ مسلمانوں ، عیسائیوں اور صیہونزم کے مخالف عام یہودیوں کو ان کی عباد گاہوں تک رسائی دی جائے جو عبادت گاہیں یروشلم میں موجود ہیں،ان کا کہنا تھا کہ حالانکہ اقوام متحدہ نے اقصیٰ کو مقبوضہ قرار دیا ہے، اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ قبلہ اول بیت المقدس سمیت دیگر مقدس مقامات کی حٖفاظت کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں اور اس سلسلے میں 6اور سات جون کو عالمی مارچ برائے آزادی القدس بھی کیا جا رہا ہے جس کا مقصد قدس کا دفاع او ر یروشلم میں موجود مقدس مقامات کا تحفظ ہے، آئیے ہمارا ساتھ دیجئے۔

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.