مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ایک انٹرویو میں ڈاکٹر یوسف الرزقہ نے کہا کہ عرب ممالک کی طرف سے فلسطینیوں کی حمایت میں نہایت سست روی کا مظاہرہ کیا گیا۔ فلسطینیوں کو عرب اقوام اور عالم اسلام کی جانب سے جس جرات مندانہ معاونت کی ضرورت تھی وہ نہیں مل سکی۔ اس کے نتیجے میں فلسطین میں حقیقی قیادت کا خلاء رہا۔ اسرائیل نے اس خلاء سے فائدہ اٹھایا اور اس نے فلسطین میں غاصبانہ قبضے کو توسیع دینے اورعرب ممالک میں مداخلت کی اسٹریٹیجی جاری رکھی۔
ارض فلسطین پر ناپاک صہیونی ریاست کے قیام اور اس کی دلخراش یادوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں حماس رہ نما نے کہا کہ قیام اسرائیل کے وقت فلسطینیوں پرجو مظالم ڈھائے گئے انہیں سہنے والے آج بھی زندہ ہیں۔ وہ جہاں بھی ہیں ہرسال قیام اسرائیل کے دن آنے پرانہیں یاد کرتے ہیں۔ ہرسال پندرہ مئی لاکھوں فلسطینیوں کے زخم تازہ کرتا ہے۔ بدقسمتی سے قیام اسرائیل کے وقت بھی عرب ممالک کی لیڈرشپ خاموش تماشائی رہی، اس کے بعد بھی عربوں پر صرف ایک اسرائیلی ریاست بھاری ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ارض فلسطین پر صہیونی ریاست کے قیام کی پہلی ذمہ داری عرب ممالک پرعائد ہو گی، دوسری فلسطینیوں کی کمزوریوں پر اور تیسری برطانیہ پر جس کی عالمی سازشوں سے صہیونی ریاست کا بیج بویا گیا۔
ڈاکٹر یوسف الرزقہ کا کہنا تھا کہ فلسطین کی تاریخ میں صرف 15 مئی 1948ء کا ہولناک تاریخی واقعہ ہی نہیں جس روز اسرائیل قائم کیا گیا بلکہ اس سے قبل سنہ 1917ء کو بالفور ڈیکلریشن اور خلافت عثمانیہ کے زیرنگیں علاقوں کی بندر بانٹ کے حوالے سےیورپی ممالک میں طے پایا”سائیکس پیکو” معاہدہ بھی تاریخ فلسطین کے دلخراش واقعات میں سے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کی کمزوری اس وقت عیاں ہو گئی تھی جب فلسطین پر برطانوی قبضے کے دوران بیرون ملک سے یہودیوں کو لا کر بسایا جانے لگا۔ پھر جب فلسطین پندرہ مئی 1948ء سےدو سال قبل جب فلسطین میںیہودی ریاست کے لیے عملا لڑائی کا آغاز ہوا تو فلسطینی نہتے اور تنہا تھے۔ اس وقت عرب ممالک کی حکومتوں کی طرف سے فلسطینیوں کی کوئی خاطرخواہ مدد نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں عملا صہیونی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔
