اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ٹیکسوں اور بلات کی عدم ادائیگی کے باعث مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقوں میں فلسطینی شہریوں کی بجلی منقطع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی مرکزی الیکٹری سٹی کمپنی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے ذمہ بجلی بلات کی مد میں ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی رقم واجب الاداء ہے۔ رام اللہ حکومت کی طرف سے بجلی بلوں کی عدم ادائیگی کے باعث اب مزید بجلی کی فراہمی ممکن دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مشرقی بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں کی بجلی کاٹ دی جائے گی۔
بجلی ڈسٹری بیوٹر کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کی بجلی کاٹنے کے بعد وہاں پر موجود بجلی جنریٹر یہودی کالونیوں میں منتقل کردیے جائیں گے کیونکہ بجلی کاٹے جانے کے بعد فلسطینی آبادی کے شدید رد عمل کا خدشہ ہے اور اس کے نتیجے میں مشتعل فلسطینی بجلی جنریٹروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کے ایک ذریعے نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اسرائیلی بجلی سپلائی کمپنی کی طرف سے مشرقی بیت المقدس میں فلسطینی آبادی کی بجلی کاٹنے کی دھمکی فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ بڑھانے کا ایک بہانہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
