فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں ہفتے کے روز جنین شہر میں قابض صہیونی فوج اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں دسیوں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جبکہ فلسطینی مظاہرین کے جوابی پتھراؤ کے نتیجے میں قابض فوجیوں کے متعدد اہلکاروں کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے کے شہر جنین کے مغرب میں برقین کے مقام پر فلسطینی شہریوں اور صہیونی فوج میں تصادم اس وقت ہوا جب قابض فوجیوں نے ایک مقامی نوجوان کو حراست میں لے کر سرم عام تشدد کا نشانہ بنایا۔ صہیونی فوج کے اس ظالمانہ اقدام پر لوگ نعرے لگاتے گھروں سے نکل آئے اور گھر گھر تلاشی میں مصروف قابض فوجیوں پر سنگ باری شروع کردی۔
فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی فوج نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ہفتے کو علی الصباح صہیونی فوجیوں نے برقین کے مقام پر تلاشی کا سلسلہ شروع کیا اور ایک گھر میں گھس کر سترہ سالہ محمد سلیم حمامدہ نامی ایک لڑکے کو حراست میں لینے کے بعد پہلے اسے تشدد کا نشانہ بنایا پھر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ اسرائیلی فوج کی اس غنڈہ گردی کے خلاف فلسطینی سخت مشتعل ہوئے اور وہ گھروں سے نعرے لگاتے باہر نکل آئے۔ عینی شاہدین کے مطابق صہیونی فوجیوں نے فلسطینی مظاہرین پر حملے کے دوران احمد مرتضیٰ نامی ایک شہری کی کار بھی توڑ دی۔
ادھر مغربی کنارے کے شہر سلفیت میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے چھوڑے گئے سوروں کے ایک ریوڑ میں فلسطینیوں کی گندم کی فصلیں تباہ کردیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ یہودی انتہا پسندوں کی جانب سے فلسطینی شہریوں کی گندم اور جو کی فصلات میں سوروں کا ایک ریوڑ چھوڑ دیا گیا جس نے گندم کی فصل کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
