اسرائیلی فوج کے دو سینیئر افسروں کو فوجی چھاؤنی سے چوری چھپے سولین کو اسلحہ فروخت کرنے کے الزام میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اسرائیلی اخبار "ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق ایک فوجداری عدالت میں قائم مقدمہ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ میجر کے عہدے کے دو فوجی افسروں نے زیرزمین اسلحہ کے بنکروں میں داخل ہو کر اسلحہ چرایا اور پھر اسے آگے عام لوگوں کو فروخت کیا تھا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے ملٹری پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے جاری ایک بیان میں فوجی افسروں پر اسلحہ چوری کرنے اور اسے آگے عام لوگوں کو فروخت کرنے کے مقدمہ کی تصدیق کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج کے سینیئر عہدیداروں کی طرف سے اسلحہ چوری کرنا اور اسے فروخت کرنا سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ مقدمہ دائر کیے جانے کے بعد دونوں ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔
عبرانی اخبار "ہارٹز” کے مطابق ملٹری پولیس گذشتہ دو ماہ سے فوج کے اسلحہ ڈپو سے ہتھیار چوری ہونے کی تحقیقات کر رہے تھے۔ پولیس کو بتایا گیا تھا کہ ملک میں اسلحہ کی خرید و فروخت میں ایک منظم نیٹ کام کر رہا ہے۔ تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ اس گروپ کو اسلحہ فروخت کرنے میں فوج کے اپنے دو افسر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس نیٹ ورک کو کئی دستی بم، کلاشنکوفیں، بندوق کی گولیاں اور دیگر نوعیت کا اسلحہ اور ایمونیشن فروخت کرکے لاکھوں شیکل کی رقم وصول کی ہے۔
تفتیش کے بعد فوج نے نیٹ ورک کے مرکزی ملزم کو جنوبی فلسطین میں دیمونہ شہر سے حراست میں لیا۔ جس سے تفتیش کے دوران ان تمام افراد کا پتہ چلایا گیا جو اس گروپ میں شامل رہے ہیں۔ گروپ کے سرغنہ کی گرفتاری کے وقت اس کے گھر سے "الاؤ” نامی دس راکٹ اور دیگر اقسام کا اسلحہ اور گولہ بارود بھی قبضے میں لیا گیا۔
گروپ کے مرکزی ملزم سے تفتیش کے بعد ایک دوسرے شخص کو بھی حراست میں لیا گیا، جس کے قبضے سے 43 دستی بم، 79 دھماکہ خیز مواد کے پیکٹ، 4850 گولیاں، الاؤ راکٹ اور بھاری مقدار میں منشیات بھی ملی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
