فلسطینی انتظامی اسیران نے جمعرات کے روز اسرائیلی جیل سروس کے جھوٹے وعدوں پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔
فلسطینی اسیران سوسائٹی کے قانونی یونٹ کے سربراہ جواد بولس ںے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی انتظامی اسیران مسلسل 15 دنوں سے کھانے کے بغیر رہ رہے ہیں اور اس وقت تک اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں ہوجاتے ہیں۔
اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید تقریبا 130 اسیران اس بھوک ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں۔ بولس نے مزید بتایا کہ ممبر پارلیمان محمد ماہر پر اسرائیلی محافظوں نے تشدد کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔
اسی موقع پر اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے بھی جمعہ کے روز اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرے اور حمایتی مہمات کا اہتمام کیا ہے جو کہ پورے فلسطین میں منعقد کی جائیں گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
