تنظیم آزادی فلسطین کے سرکردہ رہ نما اور فلسطینی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ صائب عریقات نے کہا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” دہشت گرد تنظیم نہیں۔ اگر وہ اسرائیلی وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے تو یہ اس کا حق ہے۔
انہوں نے بعض ممالک کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ وہ فلسطین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ایک انٹرویو میں صائب عریقات کا کہنا تھا کہ حماس فلسطینیوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ اس پر دہشت گردی کا الزام قطعی بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل جانتا ہے کہ جب تک فلسطینی مفاہمت نہیں کرتے تب تک سنہ 1967 ء کے علاقوں میں فلسطینی ریاست کے قیام میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اب ہم نے مفاہمت کا اعلان کردیا ہے اور جلد ہی انشاء اللہ فلسطینی ریاست کا بھی اعلان ہوگا۔
فلسطینی مذاکرات کار نے کہا کہ اسرائیل نے بات چیت کے دوران اپنے وعدے ایفاء نہیں کیے ہیں۔ جس کے بعد ہمیں قومی مفاہمت کی طرف آنا پڑا ہے۔ اب صہیونی ریاست مذاکرات کی آڑ میں فلسطینیوں کی مصالحت کو بھی ناکام کرانا چاہتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کی امداد روکنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی قوم کے مال پر ڈاکہ قرار دیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
