فلسطینی سیاسی جماعتوں اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” اور الفتح کے مابین طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے بعد مغربی کنارے میں تحریک الفتح کی حکومت کے سربراہ رامی الحمد للہ نے اپنا استعفیٰ صدر محمود عباس کو پیش کر دیا ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی”وفا” کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں رامی الحمد للہ کا کہنا ہے کہ قومی مفاہمت کو آگے بڑھانے کے لیے میں نے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوتے ہوئے اپنا استعفیٰ صدر محمود عباس کو بھیج دیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ بدھ کو فلسطینی جماعتوں حماس اور الفتح سمیت تنظیم آزادی فلسطین کے ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کے درمیان قومی مفاہمت کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے غزہ اور مغربی کنارے میں قائم حماس اور الفتح کی الگ الگ حکومتیں ختم کرتے ہوئے پانچ ہفتوں میں مخلوط قومی حکومت کی تشکیل اور چھ ماہ میں پارلیمانی انتخابات کرانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ دونوں جماعتوں کےدرمیان پچھلے سات سال سے اختلافات چلے آ رہے تھے۔ مصر ، سعودی عرب اور قطر کی مساعی سے پہلے بھی حماس اور الفتح قومی مفاہمت کے سمجھوتے کر چکی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
