اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے مرکزی رہ نما اور جماعت کے سیاسی شعبے کے سینیئر رکن عزت الرشق نے کہا ہے کہ بدھ کے روز حماس اور الفتح کے درمیان غزہ کی پٹی میں جو مصالحتی معاہدہ طے پایا ہے اسے قومی مطالبات کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے آپس میں صلح کا معاہدہ نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا دیرینہ مطالبہ تھا جسے پورا کیا گیا ہے اور اسے ہر صورت میں قائم رکھا جائے گا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عزت الرشق نے ان خیالات کا اظہار استنبول میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصالحتی سمجھوتے پر جتنا جلد ازجلد عمل درآمد کر لیا جائے فلسطینی عوام کی صفوں میں اتنا ہی مضبوط اتحاد پیدا ہوگا اور صہیونی ریاست کے مظالم کے سامنے جرات کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملے گا۔ اس میں تاخیر فلسطین دشمنوں کے لیے خوشی کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی کنارا، بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور غزہ کی پٹی اسرائیل کی منظم ریاستی دہشت گردی اور جنونیت کا سامنا کررہے ہیں۔ یہودی ریاست کے مظالم کی روک تھام کے لیے مفاہمت کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچا ہے۔ ہم نے مفاہمت اس لیے کی ہے تاکہ قومی اصولوں اور بنیادی قومی مطالبات کو مل کر آگے بڑھائیں۔ مفاہمتی سمجھوتے پرعمل درآمد میں قومی اصولوں کو پامال نہیں کیا جائے گا۔
عزت الرشق نے کہا کہ ہمیں امید ہے کی فتح کی قیادت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفاہمتی معاہدے کی طے شدہ شرائط پر عمل درآمد میں تاخیر سے کام نہیں لے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
