مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی رکن اسمبلی مصطفیٰ برغوثی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل فلسطینی اسیران کے معاملے میں فلسطینی اتھارٹی کو بلیک میل کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے بھی اسیران کے حقوق کے حوالے سے جرات اور ہمت کا مظاہرہ نہیں کیا جس کے نتیجے میں اسیران کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
مصطفیٰ البرغوثی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینی اسیران پر مظالم بڑھا دیے ہیں۔ قیدیوں کو تنہائی جیسی قید کی بدترین سزاؤں کا سامنا ہے۔ بغیر کسی جرم کے قیدیوں کو ان کے اہل خانہ سے ملاقات پر پابندی لگا دی جاتی ہے اور مریضوں کو علاج کی بنیادی سہولیات سے جان بوجھ کر محروم رکھا جاتا ہے۔ یہ تمام کے تمام جنگی جرائم ہیں جن پر صہیونی ریاست کا عالمی اداروں میں محاسبہ ضروری ہے۔
فلسطینی سیاست دان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے مذاکرات کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی چوتھی کھیپ کی رہائی سے انکار کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل فلسطینی علاقوں میں یہودی توسیع پسندی پر پردہ ڈالنے کے لیے فلسطینیوں کو اسیران کے معاملے میں بلیک میل کر رہا ہے۔
