تنظیم آزادی فلسطین "پی ایل او” کے ایک سینیئر رکن نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ روا رکھے گئے طرزعمل کی شدید مذمت کی ہے۔
پی ایل او کے رکن اور عوامی جمہوری محاذ کے سیاسی شعبے کے اہم رہ نما تیسیر خالد نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت صہیونی ریاست کے سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی مفادات کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو دوسرے ایجنٹ کے طور پر ڈیل کررہی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق پی ایل او کے سینیئر رکن نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے اپنے وزراء کو فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ روابط ختم کرنے کی ہدایت کر کے صہیونی ریاست کی فلسطینی دشمنی واضح کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو اپنا ایجنٹ تصور کرتا ہے اور اس کی مدد سے اپنے سیاسی، سیکیورٹی اور اقتصادی مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں فلسطینی سیاست دان کا کہنا تھا کہ دنیا میں استعماری ممالک کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور صہیونی ریاست کا استعماری گھمنڈ بھی خاک میں مل رہا ہے اور اس کی استعماری سازشیں اب دم توڑ رہی ہیں۔
انہوں نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون، اقتصادی تعاون اور ہر قسم کے مذاکرات کا سلسلہ بھی ختم کردے کیونکہ اسرائیلی ہٹ دھرمی کے بعد امن مذاکرات آگے بڑھانے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
