فلسطین کے محصور شہرغزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی پابندیوں کی وجہ سے شہر میں انیس ملین ڈالر کے پانی کی فراہمی اور سیوریج کے منصوبے تعطل کا شکار ہوئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ میں وزیر برائے لوکل گورنمنٹ ڈاکٹر محمود جواد الفراء نے مقامی حکومتوں کے توسط سے غزہ کی پٹی میں سیوریج اور صاف پانی کی فراہمی کے 21 پر منصوبوں پر کام شروع کیا گیا تھا لیکن فنڈز اور تعمیراتی سامان کی عدم دستیابی کے باعث یہ منصوبے تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔
ڈاکٹر الفراء نے کہا کہ اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی پابندیوں کے باعث غزہ کی پٹی میں ہر شعبہ ہائے زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے لیکن سیوریج اور پانی کی سپلائی کی اسکمیں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے شہر میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے 15 ملین ڈالر کی اسکیمیں شروع کی گئی تھیں۔ ان میں سب سے بڑا منصوبہ جنوبی غزہ میں دیر البلح کے مقام پر سمندری پانی کو استعمال میں لانے کا ہے جس پر 12 ملین ڈالر صرف کیے جائیں گے۔ اسی طرح چار ملین ڈالر کی رقم سے شہر میں نئی سیوریج لائنیں بچھانے کی اسکیمیں شروع کی گئی تھیں لیکن اسرائیل کی مسلط کردہ پابندیوں کے نتیجے میں حکومت ان منصوبوں کو آگے بڑھانے میں سخت مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
