مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب اور فلسطین کے مفتی اعظم الشیخ محمد حسین نے قبلہ اول کے خلاف صہیونی حکومت اور انتہا پسند یہودیوں کی ریشہ دوانیوں کی سنگین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہودیوں نے قبلہ اول کو پامال کردیا ہے اور عالم اسلام سکون کی نیند سو رہے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ محمد حسین نے قبلہ اول کے حوالے سے یہ انتباہی بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں یہودیوں یلغار روز مرہ کا معمول بن چکی ہے۔ روزانہ سیکڑوں یہودی آباد کار، پولیس اور فوجی حکام حتیٰ کہ انٹیلی جنس حکام اور حکومتی وزراء بھی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
گذشتہ روز اسرائیلی کنیسٹ کے اسپیکر "موشے ویلگن” نے انتہا پسند یہودی گروپوں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ میں دھاوا بولا اور دیر تک وہاں اشتعال انگیز گشت کرتے رہے۔
اس موقع پر مفتی اعظم فلسطین الشیخ محمد حسین نے کہا کہ اسرائیلی فوج اور پولیس نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کا داخلہ تو بند کردیا اور لیکن یہودی انتہا پسندوں کو اس مقدس مقام کی بے حرمتی کی کھلی چھٹی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اس کے ہمراہ انتہا پسند یہودیوں کے بیت المقدس میں داخلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
الشیخ محمد حسین کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک کھلی سازش کے تحت مسجد اقصیٰ کو زمانی اور مکانی اعتبار سے فلسطینیوں اور یہودیوں میں تقسیم کرنے کی گھناؤنی سازش کا مرتکب ہے۔ انہوں نے گذشتہ روز اسرائیلی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی میں یہودیوں کے مذہبی تہواروں کے دوران انتہا پسندوں کو قبلہ اول میں داخل ہونے کی اجازت دینے اور ان کی مذہبی رسومات کی ادائی کے لیے وقت مقرر کرنے کی بھی مذمت کی۔
مفتی اعظم فلسطین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت خود بھی انتہا پسندوں پرمشمل ہے اور شدت پسندوں کی قبلہ اول پر یلغار کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ کے خلاف جاری صہیونی سازشوں کی روک تھام کے حوالے سے عالم اسلام کے منفی کردار پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کو تاریخ کے بدترین خطرات لاحق ہیں جبکہ عالم اسلام گہری نیند میں ڈوبا ہوا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
