اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند یہودی تنظیموں خفیہ سازباز کے تحت قبلہ اول کے مغربی حصے کو "یہودی معبد” میں تبدیل کرنے کی خطرناک اسکیم پر کام شروع کیا ہے۔
دوسری جانب بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے کام کرنے والے اداروں نے صہیونی منصوبے کو قبلہ اول کے مستقبل کے حوالے سے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی انتہا پسند تنظیمیں اور حکومت کے ماتحت کام کرنے والے متعدد ادارے ملکی بھگت کے تحت مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کو مرحلہ وار آگے بڑھانے کے لیے مسجد اقصیٰ کے مغربی حصے کو "معبد” میں تبدیل کرنے کی اسکیم تیار کر رہے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے انتہا پسند یہودی فرقے "الربانیم” سے وابستہ یہودیوں کی جماعت "یچائی فاؤنڈیشن” نے حال ہی میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ایک مکتوب میں مطالبہ کیا ہے کہ حکومت مسجد اقصیٰ میں ایک بڑے یہودی معبد کے قیام کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرتے ہوئے معبد کی تعمیر میں تعاون کرے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند یہودی گروپوں کی حمایت میں رپورٹنگ کرنے والے صحافی "یسرائیل میڈد” نے بھی مسجد اقصیٰ کی مغربی سمت یہودی معبد کی تعمیر کی اسکیم کا تذکرہ کیا ہے۔ میڈڈ کا کہنا ہے کہ فی الوقت یہ اسکیم تحریر سطح پر نہیں لائی گئی البتہ اس متوقع منصوبے کے نقشے اور تصاویر ضرور تیار کی گئی ہیں۔
صہیونی تجزیہ نگار نے وہ تصاویر اپنے انٹرنیٹ بلاک پربھی پوسٹ کی ہیں۔ میڈڈ کے نقشوں کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کے ساتھ ساتھ مسجد کی دیوار سے متصل یہ کنیسہ[معبد] التنکزیہ تک تعمیر کیا جائے گا۔
مسجد کی مغربی سمت سے اس معبد میں داخلے کے لیے قبلہ اول کی قدیم دیوار کے اندرسے ایک نیا دروازہ کھولا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت مسجد البراق کو یہودی معبد میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اگریہ منصوبہ پایہ تکیمل کو پہنچ جاتا ہے تواس کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ کے مغربی حصے پر نہ صرف مستقل طور پر قابض ہو جائیں گے بلکہ معبد کی بالائی منزلیں تعمیر کر کے مسجد اقصیٰ سے اونچا ہونے کی بھی کوشش کریں گے تاکہ پوری مسجد اقصیٰ ان کی نظروں کے سامنے آجائے۔
مسجد اقصیٰ نے صہیونی حکومت اور انتہا پسند گروپوں کے خطرناک منصوبے کی سنگینی پر خبردار کرتے ہوئے عالم اسلام سے مسجد اقصیٰ کے دفاع کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرعالم اسلام کی جانب سے بروقت اور موثر اقدامات نہیں کیے جاتے ہیں تو قبلہ اول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے کیونکہ مسجد کے مغربی حصے کے اس معبد میں کی تعمیر کے منصوبے میں صرف انتہا پسند یہودی ہی ملوث نہیں ہیں بلکہ اس میں بہ ذات خود اسرائیلی ریاست بھی ملوث ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
