فلسطین میں انسانی حقوق کے ایک گروپ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی شہروں سے تعلق رکھنے والے چار فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں میں اپنی اسیری کے 28 سال مکمل کر چکے ہیں اور اب وہ انتیسویں سال میں داخل ہو رہے ہیں۔
مرکز برائے اسیران اسٹڈی سینٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چاروں فلسطینی مقبوٰضہ فلسطینی شہر "باقہ” سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس شہر پر قیام اسرائیل کے وقت صہیونی فوجوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ چاروں فلسطینی سنہ 1986ء کے بعد سے مسلسل حراست میں ہیں۔رپورٹ کے مطابق 52 سالہ رشدی حمدان محمد ابو مخ عمر قید کے سزایافتہ ہیں اور طویل المدتی اسیران میں ان کا چوتھا نمبر ہے۔54 سالہ ابراہیم نائف حمدان ابو مخ بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ انہیں 24 مارچ 1986ء کو حراست میں لیا گیا تھا۔ 55 سالہ ولید نمر اسعد دقہ 25 مارچ 1986ء کو اور 53 سالہ ابراہیم عبدالرزاق احمد بیادسہ 26 ماچ 1986ء کوحراست میں لیے گئے۔ یہ دونوں اسیر بھی عمرقید کے سزا یافتہ ہیں۔ خیال رہے کہ اسرائیلی قانون کے تحت عمرقید سے مراد تا حیات قید لی جاتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتیس سال سے زیرحراست چاروں فلسطینیوں پر سنہ 1985ء میں "موشے تمام” نامی ایک یہودی فوجی کو اغواء کے بعد "نتانیا” میں قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صہیونی فوج کی جانب سے ان پر الزام ہے کہ انہوں نے شام میں عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے ایک ٹریننگ کیمپ سے عسکری تربیت حاصل کی تھی۔ فلسطینیوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے متعدد معاہدے ہوتے رہے ہیں لیکن اسرائیلی حکام نے ہربار ان چار قیدیوں کو کسی فہرست میں شامل کرنے سے انکار کیا۔
