تنظیم بتسلیم نے دیوار فاصل میں سوراخ کے نزدیک گھات لگا کر شہید کئے گئے 14 سالہ فلسطینی لڑکے یوسف شوامرہ کی شہادت کی ذمہ داری اسرائیلی فوجی اہلکاروں پر عائد کر دی ہے۔
بتسلیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بدھ 19 مارچ 2014ء کو صبح تقریبا سات بجے اسرائیلی فوجیوں نے الخلیل سے تعلق رکھنے والے 14 سالہ یوسف شوامرہ اور اس کے دو ساتھیوں 13 سالہ زھی شوامرہ اور 18 سالہ البلاح الدردون پر فائرنگ کھول دی۔
بتسلیم کی تفتیش کے مطابق تینوں لڑکے شوامرہ خاندان کے کھیتوں میں کام کررہے تھے۔ تنظیم کے مطابق،” پچھلے دو سال کے دوران دیوار فاصل کے اس حصے میں بہت بار شگاف ڈالے گئے ہیں۔ یہ تینوں لڑکے بھی ایک شگاف سے دوسری طرف چلے گئے اور سڑک کو پار کرلیا۔”
بچ جانے والے دونوں لڑکوں نے بتسلیم کے نمائندے موسیٰ ابو حشاش کو بتایا ہے کہ جیسے ہی وہ سڑک کے دوسری طرف گئے تو اس وقت ان پر بغیر کسی وارننگ کے تین سے چار گولیاں چلا دی گئیں۔ ان کے مطابق انہوں نے شوامرہ کو گولی لگنے کے بعد فوری طور پر واپس لے آئے اور اسی دوران کچھ میٹر دور جھاڑیوں سے اسرائیلی فوجی باہر نکل آئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس امر کے باجود کہ فوجی بیس صرف دو کلومیٹر دور تھی فوجی ایمبولینس تقریبا 30 منٹ لیٹ پہنچی۔ شوامرہ کو ایک اسرائیلی ہسپتال کے کر جایا گیا تھا جہاں پر شوامرہ کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد شوامرہ کے جسد خاکی کو الخلیل کے عالیہ ہسپتال لے کر جایا گیا جہاں پر ان کے جسم کا معائنہ کرنے پر ان پر گولی کا صرف نشان ملا جو کہ ان کی ٹانگ پر تھا۔
اسرائیلی ملٹری پولیس کے تفتیشی یونٹ نے اس واقعے کی تحقیقات کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ مگر بتسلیم کی ڈائریکٹر جیسیکا مونٹیل نے زور دیا کہ شوامرہ کی موت کی ذمہ داری صرف ان کو قتل کرنے والے فوجیوں پر ہی عائد نہیں ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ،” سب سے بنیادی ذمہ داری ان افسران کی ہے جنہوں نے ان فوجیوں کو گھات لگانے کے لئے بھیجا تھا۔ اسرائیلی پولیس کو اس بات کو یقینی بنا لینا چاہئیے ہے کہ اس کیس میں افسران کا کتنا عمل دخل تھا اور آیا ان پر اس قتل کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یا نہیں۔”
