اسرائیلی کنیسٹ[پارلیمنٹ] کی داخلہ کمیٹی کا کل بدھ کے روز اہم اجلاس ہوا جس میں فلسطین۔ اسرائیل امن مذاکرات کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی چوتھے مرحلے کی رہائی پر غور کیا گیا لیکن اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم کر دیا گیا۔
صہیونی میڈیا کے مطابق اجلاس میں حکومتی شخصیات، اپوزیشن رہ نما، جیل حکام، وزارت داخلہ اور وزارت قانون وانصاف کے عہدیدار بھی موجود تھے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق کنیسٹ کی خارجہ کمیٹی کی چیئرپرسن اور انتہا پسند رکن پارلیمنٹ” میری ریگیو” نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی رہائی سے انکار کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ایسے فلسطینیوں کی رہائی پر مصر ہے جو یہودیوں کے قتل میں ملوث ہیں تو ان یہودیوں کو بھی رہا کرے جوفلسطینیوں کے قتل میں الزام میں جیلوں میں قید ہیں۔
ذرائع کے مطابق صہیونی جیل حکام اور وزارت داخلہ رہا کیے جانے والے فلسطینیوں کی فہرست میں قیدیوں کے ناموں پر اتفاق نہیں کر سکے ہیں جس کے بعد رواں کے آخر تک فہرست پر نظرثانی تک فلسطینیوں کی رہائی ممکن نہیں ہو گی۔
