فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم”مرکز برائے حقوق اسیران” کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیاہے کہ پیر کے روز غزہ کی پٹی کے کئی افراد جن میں خواتین بھی شامل تھیں مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنے اسیر عزیزوں سے ملنے جا رہے تھے.
صہیونی فوج نے انہیں دونوں شہروں کے درمیان”بیت حانوں” گذرگاہ پر روک لیا۔ تمام فلسطینیوں کو خراب موسم کے باوجود کئی گھنٹے سڑک پر کھڑا رکھنےکےبعد انہیں یہ کہہ کرواپس بھیج دیا کہ گذرگاہ نہیں کھولی جا سکتی ہے۔
صہیونی فوج کے اس غیرانسانی رویے پر فلسطینی شہری سخت مشتعل ہوئےاور انہوں نے قابض فوج کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ قابض فوج نے قیدیوں کے ملاقاتیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں جبرا واپس کر دیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے اسیران کے اہل خانہ کے ساتھ صہیونی فوج کی مبینہ بدسلوکی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج کے خلاف فلسطینی شہریوں کو اپنے اسیرعزیز و اقارب سے ملاقات سے روکنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں ہے۔
