متحدہ عرب امارات نے فلسطینی محصور شہر غزہ کی پٹی میں سابق اسیران کے لیے ایک ہاؤسنگ کالونی کے قیام کے جاری منصوبے کے لیے
مزید فنڈز روک لیے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ حکومت کے وزیر برائے آبادکاری و تعمیرات یوسف العزیز نے میڈیا کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے تعاون سے شہر میں اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والوں کے لیے ایک کالونی تعمیر کی جا رہی ہے۔ یو اے ای نے اپنے حصے کے فنڈز روک لیے ہیں۔
فلسطینی وزیر کا کہنا ہے کہ اماراتی حکام کی جانب سے انہیں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری ترقیاتی منصوبے میں ابو ظہبی مزید فنڈز فراہم نہیں کرے سکے گا۔ یوسف العزیز کا کہنا تھا کہ ہم متحدہ امارات کو فیصلہ واپس لینے پر قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ابھی تک امارات حکومت کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے۔
فلسطینی وزیرکا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے انہیں تعمیراتی کام میں معاونت بند کرنے کا سبب نہیں بتایا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی ماہرین تعمیرات نے سابق اسیران کے لیے کالونی کے قیام کے حوالے سے نقشوں کی تیاری کا 70 فی صد کام مکمل کر لیا ہے لیکن ہم متحدہ عرب امارات کی جانب سے فنڈز روکے جانے پر حیران ہیں کہ ایسا کیوں کر کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ جنوری 2014ء میں امارات حکومت نے غزہ کی پٹی میں الشیخ خلیفہ بن زائد آل نھیان سٹی برائے سابق اسیران کی تعمیرات کی مد میں 50 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی تھی۔ یہ کالونی غزہ کی پٹی میں 100 ایکڑ پر بنائی جا رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
