فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں مسلمانوں کے مذہبی مرکز مسجد ابراہیمی میں صہیونی فوج کی مسلسل مداخلت کا سلسلہ جاری ہے۔ فروری میں صہیونی فوج کی جانب سے جامع مسجد الخلیل میں 44 مرتبہ اذان پر پابندی لگائی گئی۔
فلسطینی محکمہ اوقاف کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوجیوں کا کہنا ہے کہ مسجد ابراہیمی میں اذان کے نتیجے میں یہودیوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث حرم ابراہیمی میں اذان دینے پر پابندی لگائی جاتی ہے۔
الخلیل کے ڈائریکٹر اوقاف الشیخ تیسیر ابو سنینہ کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام کی جانب سے فلسطینیوں مذہبی معاملات میں بے جا مداخلت کا سلسلہ جاری ہے۔ مسجد ابراہیمی میں اذان دینے پر پابندی کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن صہیونی فوج کی جانب سے روز مرہ کی مداخلت آسمانی مذاہب اور مذہبی تعلیمات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
