اسیر منصور کے خاندان نے ان کی اسرائیلی جیل سے رہائی کی اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی صحت دن بہ دن گرتی جارہی ہے اور اب ان کی نظر بھی کمزور ہورہی ہے۔ قابض حکام نےموکادی کو 3 جولائی 2002 میں گرفتار کیا تھا اور ان کی گرفتاری کے دوران انہیں گولی لگ گئی تھی جس کی وجہ سے وہ فالج کے شکار ہوگئے تھے۔
منصور کے خاندان کے مطابق وہ پلاسٹک کے معدے اور آنتوں کے ساٹھ رہ رہے ہیں اور اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے کئی امراض کے شکار ہیں۔
دریں اثناء فلسطینی اسیران سوسائٹی کے وکلاء نے رملہ جیل کلینک میں فلسطینی اسیران سے ملاقات کی اور بتایا کہ تین فلسطینی اسیران کی صحت مسلسل خراب ہورہی ہے۔
سوسائٹی کے وکلاء کے مطابق 43 سالہ فلسطینی اسیر خالد شاوش سال 2004 میں 11 گولیاں لگنے کی وجہ سے فالج کے شکار ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ 36 سلہ فلسطینی اسیر مراد ابو میلیق بھی 2004 سے معدے میں انفیکشن کی وجہ سے بیمار ہیں۔
اس کے علاوہ غزہ کے 42 سالہ سیر ناہد اقرع کو بھی پچھلے ماہ سے ٹانگوں میں انفیکشن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ تمام اسیران اسرائیل کی فلسطینی اسیران کی صحت کو نظرانداز کرنے کی پالیسی کی وجہ سے شدید پریشانی کا سامنا کررہے ہیں۔
