فلسطین کے مقبوضہ شہروں پر یہودی قبضہ اور صہیونی توسیع پسندی تو روز کا معمول ہے ہی لیکن قابض صہیونی دشمن فلسطینی شہروں کی تاریخی نوادرات اور آثار قدیمہ کے نمونے بھی چوری کرنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل سالانہ ایک لاکھ تاریخی نوادرات اور باقیات چوری کرکے دوسرے ملکوں کو فروخت کرنے لگا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 1967 ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی شہرصہیونی جرائم پیشہ مافیا اور منظم ریاستی دہشت گردی کا اہم ترین ہدف ہیں۔ جہاں سے ہرسال ہزاروں کی تعداد میں کروڑوں ڈالر مالیت کی تاریخی نوادرات چوری کرکے اسمگل کی جاتی ہیں۔ ستم یہ ہےکہ صہیونی جرائم پیشہ عناصر کی اس تہذیبی جارحیت کے کھلے عام ہونے کے علی الرغم فلسطینی اتھارٹی مبینہ غفلت کاشکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت جہاں ایک منظم سازش کے تحت فلسطین کے تاریخی مقامات کو "یہودیانے” کی مذموم کوششوں میں مصروف عمل ہے وہیں اسی سازش کے تحت قیمی نوادرات چوری کرکے بیرون ملک پہنچائی جاتی یا یہودیوں کو فروخت کی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے، بیت المقدس اور غزہ کی پٹی میں کم سے کم 944 تاریخی مقامات ہیں جو یہودی ریاست کے منظم حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ 10 ہزار کی تعداد میں تاریخی آثار قدیمہ اور 350 تاریخی گاؤں، قصبات اور شہر ہیں جن میں کم سے کم 60 ہزار تاریخی عمارتیں موجود ہیں۔ یہ تمام مقامات فلسطین کا تاریخی ورثہ ہیں لیکن بدقسمتی سے فلسطینی اتھارٹی کی مبینہ غفلت کے نتیجے میں تاریخی مقامات کو یہودیانے اور ان میں موجود نوادرات کو چوری کرنے کی سازش جاری ہے۔
فلسطینی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر حمدان طھ نے مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فلسطین کی پوری سرزمین تاریخی عمارات اور مقامات سے بھری پڑی ہے۔ ہرنصف کلو میٹر کے فاصلے پر کوئی قابل ذکر تاریخی مقام ملتا ہے۔ اسرائیل کا سب سے بڑا جرم فلسطین کے اس تاریخی اور تہذیبی ورثے کو تباہ کرنا ہے۔ صہیونی ریاست ایک منظم سازش کے تحت فلسطین کی تاریخ کو مسخ کررہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی نسلی دیوار کے نتیجے میں 270 اہم تاریخی مقامات کو یہودی بستیوں کی نذر کردیا گیا۔ اس کےعلاوہ دیوار فاصل کی زد میں آنے والے 2000 تاریخی مقامات کو تباہ کردیا گیا ہے۔
تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی گھناؤنی سازش کوئی یہودیوں سے سیکھے، جنہوں نے طاقت کے بل بوتے پر فلسطین کا تہذیبی اور ثقافتی وتاریخی ورثہ تباہ کردیا ہے۔
ڈاکٹر طھ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی کالونیوں کی تعمیر کے ذریعے 500 تاریخی مقامات کو دانستہ طورپر تباہ برباد کیا گیا۔ ان کے علاقہ 1500 چھوٹی اور درمیانے درجے کی تاریخی عمارتیں یہودیت کی نذ کردی گئیں۔ انہیں مسمار کرکے ان کی جگہ یہودی کالونیاں بنائی گئیں یا انہیں فوجی کیمپوں اور چھاؤنیوں میں تبدیل کردیا گیا۔
لاکھوں نوادرات چوری
فلسطینی تجزیہ نگار محمد الجمل نے "مرکزاطلاعات فلسطین” کے نامہ نگار کو بتایا کہ فلسطین کی تاریخی اور تہذیبی شناخت مٹانے کی سازش صرف اسرائیلی ریاست نہیں کررہی ہے بلکہ ہر یہودی آباد کار حسب توفیق اس ننگی جارحیت میں حصہ لے رہا ہے۔ یہودی آباد کاروں کے ایسے دسیوں منظم گروپ حکومتی سرپرستی میں سرگرم عمل ہیں جنہوں نے فلسطینی تاریخی مقامات کی لوٹ سیل لگا رکھی ہے۔ اسرائیلی حکومت چونکہ ایسے سماج دشمن گروپوں کی بھرپورسرپرستی کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گروپ فلسطینی نوادرات اور قیمتی تاریخی اشیاء کودنیا بھر میں فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ سارا مکروہ دہندہ فلسطینی اتھارٹی کے علم میں ہے لیکن رام اللہ اتھارٹی کو قومی اثاثوں کی یوں لوٹ سیل کی سرے سے کوئی پرواہ تک نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صہیونی ریاست اور اس کے منظم گروہ سالانہ کم سے کم ایک لاکھ نوادرات فلسطین سے چوری کرنے کے بعد انہیں دوسرے ملکوں کو فروخت کرتے ہیں۔ محمد الجمل نے بتایا کہ مقبوضہ فلسطین میں تاریخی نوادارت کی چھان بین اور ان کی صفائی کے لیے دسیوں کارخانے کام کررہے ہیں۔جہاں سے روزانہ لاکھوں ڈالر مالیت کی تاریخی نوادارت بیرون ملک اسمگل کی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں ہورہا ہے۔ سرکاری سرپرستی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض قیمتی نوادارت فوجی گاڑیوں کے ذریعے اسمگل کی جاتی ہیںتاکہ کوئی پوچھنے والا نہ ہو اور فلسطینی قومی اثاثوں کی لوٹ مار جاری رہے۔
ایک دوسرے فلسطینی دانشور ایڈووکیٹ محمد نصار نے کہا کہ عالمی سطح پر نوادرات کی ناجائز خریدو فروخت ایک گھناؤنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی مقامات اور تاریخی نوادارت اس ملک کی سرکاری ملکیت سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے فلسطینی نوادرات کی چوری کا عمل اس گھناؤنےطریقے سے جاری ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے بھی خاموش ہیں۔ دنیا کا کوئی قانون اسرائیل کی اس تہذیبی دہشت گردی پرصہیونی ریاست کےخلاف کارروائی سے گریزاں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
