• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیل کی "ارئیل” یونیورسٹی غرب اردن میں یہودی آبادی میں اضافے کا ذریعہ

اتوار 23-02-2014
in فلسطین
0
plf ariel
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کو یہودیانے کے لیے طرح طرح کے حیلے بہانے اور ذرائع اختیار کیے جا رہے ہیں۔ صہیونی ریاست کے انہی ظالمانہ اقدامات اور توسیع پسندانہ اقدامات کا ایک بڑا ذریعہ سلفیت شہر میں قائم اسرائیل کی "ارئیل” یونیورسٹی بھی ہے۔ علاقے میں اسرائیلی یونیورسٹی کے قیام کے بعد نہ صرف یہودی آبادی میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا ہے بلکہ یہودی توسیع پسندی اور تعمیرات کا بھی ایک نیا سلسلہ چل پڑا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سلیف میں قائم "ارئیل” یہودی کالونی علاقے میں یہود گردی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ یونیورسٹی کے قیام کے بعد نہ صرف یہاں پر یہودیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے بلکہ توسیعی سرگرمیاں بھی بڑھ چکی ہیں۔ یونیورسٹی کےآس پاس طلباء کے لیے ہاسٹل کی عمارات کے بہانے فلسطینیوں کی مغصوبہ اراضی پرکئی عمارتیں کھڑی کی جا چکی ہیں۔ آئے روز ان عمارتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تمام عمارتیں یونیورسٹی سے متعلقہ بھی نہیں ہیں لیکن اس کی آڑ میں تعمیر کی جا رہی ہیں۔

فلسطینی سماجی کارکن اور مخطوطات کمیٹی کے سربراہ خلیل التفکجی نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ مغربی کنارے کو اپنی جامعات کے ذریعے آبادی کے ایک وسیع سمندر میں ڈبونے کی سازش کررہی ہے۔ ان سازشوں میں سلفیت شہرمیں قائم اسرائیل کی "ارئیل” یونیورسٹی بھی شامل ہے۔ یہ یونیورسٹی ایک جانب زعترہ چیک پوسٹ سے سنہ 1948 ء کے مقبوضہ علاقے کفر قاسم تک پھیلی ہوئی ہے۔ یوں اس ادارے کے نام پر فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادی میں اضافہ اور توسیع پسندی کی کارروائیاں آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

خلیل تفجکی کا کہنا تھا کہ سلفیت میں "ارئیل” نامی یہ کالونی سنہ 1978 ء کو قائم کی گئی تھی۔ سنہ 1992 ء میں اس میں یہودی آباد کاروں کی تعداد ایک لاکھ پانچ ہزار تھی جو اب بڑھ کر 04 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ مغربی کنارے کی اب تک کی سب سے بڑی کالونی ہے۔ ایسی ہی ایک کالونی بیت المقدس میں قائم کی گئی ہے جس میں ایک چوتھائی ملین یہودی آباد ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں خلیل تفکجی کا کہنا تھا کہ اسرائیل یہودی آباد کاری کے تسلسل سے دانستہ طور پر امن عمل میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ اگر اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہوتا تو مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کا طوفان برپا نہ کرتا۔ اسرائیل مغربی کنارے کی سرزمین کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے اور اسی ڈھٹائی کے ساتھ توسیع پسندی کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

فلسطینی انسانی حقوق کے مندوب خالد معالی کا کہنا ہے کہ ارئیل اسرائیل کی آٹھ بڑی جامعات میں سے ایک ہے۔ اس میں سنہ 1982 ء میں پہلا کالج پروگرام اسرائیل کی "بارایلن” یونیورسٹی کے توسط سے شروع کیا گیا۔ سنہ 2010 ء میں پہلی مرتبہ اسرائیلی وزیردفاع ایہود باراک نے اسے ملک کی ایک بڑی یونیورسٹی قرار دیا۔ خلاف قانون فلسطینیوں کی اراضی پر تعمیر کی گئی اس یونیورسٹی میں 28 بیلچرز اور ماسٹر ڈگری پروگرام جاری ہیں۔ سنہ 2011 ء میں یونیورسٹی میں رجسٹرڈ یہودی طلباء کی تعداد 01 لاکھ 40 ہزار تھی جو اب 2014 ء میں دو لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.