مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سلیف میں قائم "ارئیل” یہودی کالونی علاقے میں یہود گردی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ یونیورسٹی کے قیام کے بعد نہ صرف یہاں پر یہودیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے بلکہ توسیعی سرگرمیاں بھی بڑھ چکی ہیں۔ یونیورسٹی کےآس پاس طلباء کے لیے ہاسٹل کی عمارات کے بہانے فلسطینیوں کی مغصوبہ اراضی پرکئی عمارتیں کھڑی کی جا چکی ہیں۔ آئے روز ان عمارتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تمام عمارتیں یونیورسٹی سے متعلقہ بھی نہیں ہیں لیکن اس کی آڑ میں تعمیر کی جا رہی ہیں۔
فلسطینی سماجی کارکن اور مخطوطات کمیٹی کے سربراہ خلیل التفکجی نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ مغربی کنارے کو اپنی جامعات کے ذریعے آبادی کے ایک وسیع سمندر میں ڈبونے کی سازش کررہی ہے۔ ان سازشوں میں سلفیت شہرمیں قائم اسرائیل کی "ارئیل” یونیورسٹی بھی شامل ہے۔ یہ یونیورسٹی ایک جانب زعترہ چیک پوسٹ سے سنہ 1948 ء کے مقبوضہ علاقے کفر قاسم تک پھیلی ہوئی ہے۔ یوں اس ادارے کے نام پر فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادی میں اضافہ اور توسیع پسندی کی کارروائیاں آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
خلیل تفجکی کا کہنا تھا کہ سلفیت میں "ارئیل” نامی یہ کالونی سنہ 1978 ء کو قائم کی گئی تھی۔ سنہ 1992 ء میں اس میں یہودی آباد کاروں کی تعداد ایک لاکھ پانچ ہزار تھی جو اب بڑھ کر 04 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ مغربی کنارے کی اب تک کی سب سے بڑی کالونی ہے۔ ایسی ہی ایک کالونی بیت المقدس میں قائم کی گئی ہے جس میں ایک چوتھائی ملین یہودی آباد ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں خلیل تفکجی کا کہنا تھا کہ اسرائیل یہودی آباد کاری کے تسلسل سے دانستہ طور پر امن عمل میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ اگر اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہوتا تو مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کا طوفان برپا نہ کرتا۔ اسرائیل مغربی کنارے کی سرزمین کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے اور اسی ڈھٹائی کے ساتھ توسیع پسندی کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
فلسطینی انسانی حقوق کے مندوب خالد معالی کا کہنا ہے کہ ارئیل اسرائیل کی آٹھ بڑی جامعات میں سے ایک ہے۔ اس میں سنہ 1982 ء میں پہلا کالج پروگرام اسرائیل کی "بارایلن” یونیورسٹی کے توسط سے شروع کیا گیا۔ سنہ 2010 ء میں پہلی مرتبہ اسرائیلی وزیردفاع ایہود باراک نے اسے ملک کی ایک بڑی یونیورسٹی قرار دیا۔ خلاف قانون فلسطینیوں کی اراضی پر تعمیر کی گئی اس یونیورسٹی میں 28 بیلچرز اور ماسٹر ڈگری پروگرام جاری ہیں۔ سنہ 2011 ء میں یونیورسٹی میں رجسٹرڈ یہودی طلباء کی تعداد 01 لاکھ 40 ہزار تھی جو اب 2014 ء میں دو لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔
