اردنی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہےکہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے فلسطینی پناہ گزینوں کے میزبان ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی مہاجرین کو مستقل شہریت دینے کے لیے فریم ورک تیار کریں۔
اردنی اخبار”الغد” کی رپورٹ کے مطابق جان کیری نے فلسطین کے پڑوسی عرب ملکوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہاں پناہ لینے والے فلسطینیوں کی فہرستیں تیار کریں، جس کے بعد ان سے یہ معلوم کیا جائے کہ آیا وہ فلسطین واپس آنا چاہتے ہیں یا وہیں مستقل قیام کے خواہاں ہیں، یا وہ کسی دوسرے ملک جانے کے خواہش مند ہیں،تاہم جان کیری نےیہ بھی واضح کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی طرف پناہ گزینوں کی واپسی صرف اسرائیل کی اجازت کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ اگراسرائیلی حکومت اس پرآمادہ نہ ہوئی تو امریکا فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا مطالبہ نہیں کرے گا۔رپورٹ کے مطابق جان کیری نے فلسطینی پناہ گزینوں کو شرف میزبانی فراہم کرنے والے عرب اور دوسرے ملکوں کو یہ تجویز بھی دی ہے کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں مستقل شہریت دینے کی کوشش کریں تاکہ فلسطینیوں کے وطن واپسی کے مطالبے کو ختم کیا جا سکے۔ اس تجویز میں یہ پیش کش کی بھی کی گئی ہے وطن واپس نہ آنے والے فلسطینیوں کوا ن کی خواہش کے مطابق معاوضے بھی دیے جائیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے حق واپسی کے بارے میں جان کیری نے وہی موقف اختیار کیا ہے جو اس سے قبل امریکی حکام کی جانب سے اپنایا جاتا رہا ہے۔ جان کیری نے مسئلہ فلسطین کے جو چار حل تجویز کیے ہیں ان میں سے کسی بھی پناہ گزینوں کی واپسی کے حق کا تذکرہ شامل نہیں ہے۔
جان کیری کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ذریعے فلسطین سے نکالے گئے لاکھوں فلسطینی یا تو کینیڈا چلے جائیں، یا فلسطینی ریاست کے قیام کا انتظار کریں۔ جب ریاست قائم ہو جائے تو وہ اپنے علاقوں میں واپسی کے بجائے فلسطینی ریاست کی حدود کے اندر آباد ہوں۔ تیسرا یہ کہ وہ جہاں ہیں وہیں[اسی ملک میں] مستقل سکونت اختیار کریں۔ اور چوتھا یہ کہ وہ اردن کے کسی صحرائی علاقے کوآباد کرلیں۔ خیال رہے کہ اردن پہلے مجموعی طورپر 42 فی صد فلسطینی پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ ساٹھ لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں میں سے بیس لاکھ اردن کی سرزمین پرموجود مہاجر کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔
