فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر سلفیت میں یہودی توسیع پسندی کسی بھی دوسرے شہر سے زیادہ دیکھنے میں آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صہیونی حکومت سلفیت شہر کے سترفی صد رقبے پر قبضے کی گھناؤنی کوشش کر رہے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین میں یہودی بستیوں کےامور کے ماہر خالد معالی کا کہنا ہے کہ اسرائیل مقبوٰضہ سلفیت کی اراضی کا70 فی صد ہتھیانے کی سازش تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صہیونی حکومت نے سلفیت میں یہودی کالونیوں کی تعداد 18 سے بڑھا کر 23 کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں مزید ہزاروں کی تعداد میں یہودیوں کو آباد کرنے کی اسکیم تیار کی گئی ہے۔
خالد المعالی کا کہنا تھا کہ صہیونی فوج نے عملا سلفیت کی 70 فی صد اراضی کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ کیونکہ کئی اہم مقامات پر صہیونی فوج نے اپنے کیمپ اور چیک پوسٹیں بنا رکھی ہیں۔ سیکڑوں ایکڑ اراضی کو فوجی علاقہ قرار دے کر فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور کئی مقامات پر یہودی بستیوں کی تعمیر جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کی سلفیت کے کفر الدیک قصبے کے 90 فی صد حصے پر اسرائیلی فوج کا قبضہ ہے، جہاں یہودیوں کے لیے مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ صہیونی حکومت نے اس علاقے کو سنہ 1994ء میں طے پائے اوسلو معاہدے کی رو سے "سیکٹرG” میں شامل کر رہا ہے اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ علاوہ معاہدے کی رو سے صہیونی ریاست کا حصہ ہے۔ اس لیے یہاں فلسطینی شہری کسی قسم کی تعمیرات نہیں کر سکتے اور نہ ہی انہیں یہاں پر کھیتی باڑی کی اجازت ہے۔
خالد معالی نے بتایا کہ سلفیت میں میٹھے پانے کا مغربی کنارے کا سب سے بڑا کنواں واقع ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے پانی کا صرف پانچ فی صد فلسطینیوں کو مل رہا ہے بقیہ 95 فی صد پانی یہودی لے جاتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
