فلسطینی پروگریسیو پارٹی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مصطفیٰ البرغوثی نے کہا ہے کہ اندرون ملک اور بیرونی سطح پر اسرائیلی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مہمات نہایت نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں۔ بائیکاٹ کی کامیاب مہمات کے نتیجے میں یہودی کالونیوں کی معیشت تباہ اور کارخانے بیٹھ گئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر البرغوثی کا کہنا تھا کہ یہودی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہمات کا دائرہ نہ صرف فلسطین کے تمام شہروں تک پھیلایا جانا چاہیے بلکہ اسے عالمی سطح پر وسیع کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے کے صہیونی کارخانوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کے بائیکاٹ نے صہیونی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں پروگریسیو پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ قومی اور عالمی بائیکاٹ کی مہمات فی الحال اپنے مشن میں حقیقی معنوں میں کامیاب نہیں ہوئی ہیں، انہیں مزید موثر اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے۔ فلسطینی مہمات صہیونیت نواز گروپوں کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن سخت مزاحمت کے باوجود بائیکاٹ مہمات کے اثرات بھی دیکھے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر مصطفیٰ البرغوثی نے کہا کہ یورپی منڈیوں میں فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں قائم اسرائیلی کارخانوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ خوش آئند ہے۔ اس طرح کی مہمات کے ذریعے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں یہودی توسیع پسندی روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔
یورپی ممالک کے جن حلقوں نے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے انہیں چاہیے کہ بائیکاٹ کا دائرہ صرف اپنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے مزید وسعت دینے کے لیے انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ بھی معاونت کریں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں جہاں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہمات کو تیز کرنے کی ضرورت ہے وہیں فلسطینی مصنوعات کو عام کرنے اور ان کی تشہیر کی بھی اشد ضرورت ہے۔ یہ کام فلسطینی ذرائع ابلاغ کا ہے۔ ابلاغی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
