اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق”اوچا” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض صہیونی فوج کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی شہریوں میں گذشتہ برس فلسطینیوں کے تین سو نوے مکانات غیرقانونی قرار دے کر مسمار کر دیے گئے
جس کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی خاندان گھرکی چھت سے محروم ہو گئے ہیں۔ گھروں اور مکانوں سے محروم ہونے والوں کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ مکانات اردن سے متصل وادی اردن میں منہدم کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس مجموعی طور یر وادی اردن میں فلسطینیوں کے 390 مکانات مسمار کیے گئے۔ سنہ 2012ء میں وادی میں فلسطینیوں کے مسمارشدہ مکانوں کی تعداد 172 بتائی گئی تھی۔ مسمار کیے گئے تمام مکانات کے مالکان کو بتایا گیا کہ انہوں نے یہ مکان حکومت کی اجازت کے بغیر تعمیر رکھے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
