فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ عرب شہروں میں سرطان جیسے موذی مرض میں تیزی سےاضافہ ہونے لگا ہے۔ سنہ 2011 ء اور 2013 ء کے دوران فلسطین میں کینسر، امراض قلب اور موذی امراض کے باعث شرح اموات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے زیراہتمام محکمہ اطلاعات کی جانب سے "کینسر” کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2012 ء میں کینسر مریضوں کی شرح سنہ 2011 ء کے مقابلے میں 20 فی صد زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ فلسطینی علاقوں میں کینسر میں تبدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ سنہ 2010 ء میں ہونے والی شرح اموات میں کینسر کے مریضوں کی تعداد 10.8 فی صد، 2011 ء میں 12.4 فی صد اور 2013 ء میں 13.7 فی صد افراد کینسر کے ہاتھوں زندگی ہار بیٹھے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطین میں کینسرکی تمام اقسام کسی نہ کسی شکل میں پائی گئی ہیں تاہم سب سے زیادہ اموات "پھیپھڑوں” کے کینسر کے باعث ہوئی ہیں۔ مجموعی طور پر کینسرسے مرنے والوں میں 16.3 فی صد افراد پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار ہوئے۔ 13.7 فی صد بڑی آنت کے کینسر میں مبتلا ہوئے اور جان کی بازی ہار بیٹھے، 10 فی صد مریض جن میں خواتین شامل ہیں چھاتی کے کینسر کا شکار ہوئیں اور چوتھے نمبر پردماغ کے کینسر کے باعث ہونے والی ہلاکتیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بڑی آنت اور پھیپھڑوں کے سرطان میں مرد اور بچے مبتلا ہوئے جبکہ چھاتی کے کینسر کا مرض خواتین کو لاحق ہوا۔ سنہ 2012 ء میں کینسر کے مرض کےشکار 50 فی صد مریض جان کی بازی ہار بیٹھے۔ سنہ 2012 ء کے اعدادو شمار کے مطابق کینسر کے شکار شہریوں میں 49.9 فی صد خواتین اور 50.1 فی صد مرد شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
