رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے چھاپوں کا سلسلہ نہ صرف فیلڈ کارروائیوں میں کئی گنا بڑھ گیا ہے بلکہ صہیونی جیلوں میں قیدیوں پر اچانک حملوں اور ان کی تلاشیوں کا ظالمانہ عمل بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری میں غزہ کی پٹی اور دوسرے شہروں میں کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کم سے کم چارسو فلسطینی گرفتار کیے گئے ہیں۔ زیادہ تر گرفتاریاں مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس سے کی گئی جہاں مجموعی طور پر کم سے کم 260 چھاپے مارے گئے۔ گرفتار ہونے والوںمیں غزہ کی پٹی کے آٹھ شہری بھی شامل ہیں۔
انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ قابض فوج کی جانب سے گرفتاریوں کے دوران بلا استثنا عام شہریوں حتیٰ کہ خواتین اور بچوں کو بھی جنگی مجرم کےاندازمیں گرفتار کرکے ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ جنوری میں صہیونی فوج کے حملوںمیں اٹھارہ سال سے کم عمرکے 75 بچے اور آٹھ خواتین بھی گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالی گئیں۔
انسانی حقوق کے گروپ کے مطابق 35 بچوں کو مغربی کنارے کے تاریخی شہرالخلیل سے حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں 16 سالہ عبید عامر اسعید نے اوفیک سول جیل سے اسرائیل کی ایک فوجی جیل میں منتقل کیے جانے کے خلاف بھوک ہڑتال بھی کر رکھی ہے۔
جیلوں پر حملے
اسرائیلی فوج کی جانب سے نہ صرف فیلڈ میں نہتے فلسطینیوں کے گھروں اور راستوں میں انہیں پکر دھکڑ کی کارروائیوں میںحراست میں لیا جاتا ہے بلکہ جیلوں میں زیرحراست فلسطینیوں پر بھی اچانک چھاپے مار کر انہیں زدو کوب کیا جا رہا ہے۔ جنوری میں صہیونی فوجیوں اور تفتیشی اہلکاروں نے جیلوں میں قید فلسطینیوں کو پریشان کرنے کے لیے کم سے کم 17 بار چھاپے مارے۔ ان چھاپہ مار کارروائیوں میں کم سے کم تین فلسطینی قیدی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی فلسطینیوں کو اذیتیں دینے میں بدنامی کی حد تک مشہور فوجی یونٹ "نخشون” کے اہلکاروں نے ریمون جیل میں دو اور ایچل میں تین مرتبہ خواتین قیدیوں پر بھی چھاپے مار کر انہیں زدو کوب کیا۔
