یورپی ملک ناروےمیں اسرائیل کی فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں قائم کارخانوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم تیز ہوگئی ہے۔ ناروے میں ملک کے سب سے بڑے ریٹائرمنٹ فنڈ نے مقبوضہ فلسطینی
شہروں میں یہودی کالونیوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کے باضابط بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ناروے کی وزارت مالیات کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی کارخانوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ گذشتہ برس نومبرمیں کیا گیا تھا جس پراب باضابطہ طورپر عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پنشن فنڈ میں سرمایہ کاری کرنے والی دو کمپنیوں”افریقا ۔ اسرائیل انویسٹمنٹ”دنیا سیبوس” کو دیے گئے ٹھیکے واپس لے لیے گئے ہیں۔
جلد ہی ریٹائرمنٹ بنک”جی بی ایف جی” مزید ان تمام کمپنیوں سے تعلق ختم کردے گا جو ایک جانب اس ادارے میں کام کررہی ہیں اور ساتھ ہی وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوںمیں یہودی سرگرمیوں میں اسرائیل کا بھی ساتھ دے رہی ہیں۔خیال رہے کہ ناروے میں اسرائیلی مصنوعات کی تین سالہ پابندی پچھلے سال اگست میں ختم ہوئی تھی جس پرانسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت تنقید کرتے ہوئے حکومت سے مصنوعات کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔
انسانی حقوق اور عوامی دباؤ کے بعد ناروے حکام نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس اور مغرب کنارے میں اسرائیلی کارخانوں میں تیار ہونے والی اشیاء کی خرید وفروخت پرپابندی عائد کردی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
