مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کل جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے ادارہ برائےانسانی حقوق”اوچا” کی جانب سے فلسطین بچوں کے ساتھ اسرائیلی فوج ناروا سلوک پرمبنی ایک رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اور دیگر سیکیورٹی ادارے احتجاجی مظاہروں مین شرکت کرنے والے کم عمرلڑکوں کو حراست میں لے کرانہیں تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
حال ہی میں قابض فوج نے مغربی کنارے میں ہوئے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران مظاہرین پر گولیاں چلائی تھیں جن کے نتیجے میں 10 بچوں سمیت 38 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج سنگ باری کےالزام میں کم عمرفلسطینیوں کو حراست میں رکھنے کے ساتھ ساتھ ان پرجعلی نوعیت کے مقدمات قائم کرکے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کم سن فلسطینیوں کو ہراساں کررہی ہیں۔ فلسطینی بچوں کو ہراساں کرنے کے کئی واقعات ریکارڈ پرموجود ہیں۔ حال ہی میں بیت المقدس میں عناتا اور العیزریہ جبکہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں سلواد کے مقام پر فوجی کارروائیوں میں ایک درجن بچے زخمی ہوگئے تھے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی کم سن لڑکوں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں سال 2012 ء کی نسبت 2013 ء میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ 2012 ء میں قابض فوک کے حملوں میں 526 فلسطینی بچے زخمی ہوئے تھے جبکہ 2013 ء کے دوران 1185 بچوں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فلسطینی شہروںمیں اسرائیل کےخلاف ہونے والے عوامی مظاہروں میں فلسطینی بچوں کی شرکت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ مظاہروں میں بچوں کی شرکت میں اضافے کے ساتھ ساتھ فوج کے حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ سنہ 2012 ء میں صہیونی فوج کے مظاہرین پرحملوں میں 408 کم سن فلسطینی زخمی ہوئے تھے جبکہ 2013 ء میں یہ تعداد 817 تک جا پہنچی ہے۔
عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینی بچوں کے حوالے سے جو ظالمانہ طرزعمل اختیار کررکھا ہے اس کےفلسطینیوں کی نئی اور نوخیز نسل پرگہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف کم عمر بچے زخمی ہورہے ہیں بلکہ طاقت کے استعمال سے بچوں پرگہرے منفی نفسیاتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
