اخبار”معاریف”نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے ایک مقرب ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ تبادلہ اراضی کا فارمولہ صرف وزیرخارجہ لائبرمین کی اختراع یا تجویز نہیں ہے بلکہ یہ حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں”لیکوڈ” اور "جیوش” ہوم کے ارکان کی مشترکہ سوچ کا عکاس ہے۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیرانصاف زیپی لیونی بھی اس تجویز کی حمایت کر چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات میں اسرائیل نے اب تک یہی موقف اپنا رکھا ہے۔
ایوان وزیراعظم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ "لیکوڈ، جیوش ہوم” کی جانب سے فلسطینیوں کے ساتھ اراضی اور آبادی کے تبادلے کے فارمولے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وسیع پیمانے پر زیربحث لانے اور اسے مقبول عام بنانے کے لیے مہمات چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس فارمولے کے تحت سنہ 1948ء کے دوران اسرائیلی قبضے میں آنے والے فلسطینی علاقے”المثلث” کے تمام فلسطینی باشندوں کو فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام علاقوں میں منتقل کیا جائے گا۔ اسی طرح مغربی کنارے اور بیت المقدس کی یہودی کالونیوں کے بدلے میں فلسطینی اتھارٹی کو شمالی فلسطین سے اراضی دی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق تبادلہ اراضی و آبادی کا فارمولہ نہ صرف اسرائیلی حکمراں قیادت میں مقبول ہوا ہے بلکہ اسے امن مذاکرات کی نگرانی کرنے والے امریکیوں کی جانب سے بھی مکمل تائید حاصل ہے۔ نیز امریکا اور اسرائیل کو توقع ہے کہ وہ فلسطینی مذاکرات کاروں کو اس فارمولے پر متفق کر لیں گے۔
