بیرون ملک بالخصوص یورپی ملکوں میں مقیم فلسطینیوں نے بھی صدر محمود عباس کی جانب سے پناہ گزینوں کے حق واپسی سے متعلق بیان کو مسترد کردیا ہے۔
یورپی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس اپنی ذاتی رائے پوری قوم پر مسلط کر کے اسرائیل کو خوش کرنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔ ان کا یہ موقف کہ "حق واپسی” ہر فلسطینی کا شادی بیاہ کی طرح نجی معاملہ ہے، فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق اور مطالبات کی سرعام نفی کی علامت ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق یورپی ملکوں میں مجموعی طور پر فلسطینیوں کی 48 نمائندہ تنظیمیں اور ادارے کام کر رہے ہیں۔ یورپ میں موجود فلسطینیوں کے ان تمام اداروں کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں صدر محمود عباس کے اس بیان کو مسترد کردیا گیا ہے جس میں انہوں نے حق واپسی کو ہر شہری کا نجی معاملہ قرار دیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ محمود عباس کے بیان سے ایسے لگ رہا ہے کہ وہ اسرائیلی فریب کا شکار ہوچکے ہیں اور فلسطینیوں کے بنیادی اور دیرینہ حقوق کی سرعام نفی کرنے لگے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل سےمذاکرات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ محمود عباس قومی نقطہ نظر اور اصولی مطالبات سےانحراف کرتے ہوئے اپنی ذاتی رائے پوری قوم پر مسلط کرنا شروع کردیں۔ جب تک ستر لاکھ بے گھر اور جلا وطن فلسطینی اپنے وطن میں دوبارہ آباد نہیں ہوجاتے اس وقت تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوسکتا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ محمود عباس اپنے صہیونی اور امریکی بہی خواہوں کو خوش کرنے فلسطین میں حق واپسی سے دستبرداری کے لیے رائے عامہ ہموار کرنےکے لیے اس طرح کے متنازعہ بیانات دے رہے ہیں۔ فلسطینی عوام محمود عباس کےفریب میں نہیں آئیں گے۔ بالخصوص حق واپسی پرکوئی سودے بازی قبول نہیں کی جائے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی بوکھلاہٹ سےایسے لگ رہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کی ترجمانی اور نمائندگی سے اکتا چکی ہے۔ اگر محمود عباس کا بیان حقیقت پر مبنی ہے تو یہ بنیادی اور اصولی مطالبات سے صریح انحراف اور اپنے حقوق سے راہ فرار اختیار کرنے کی واضح سازش ہے۔ جسے کوئی ایک فلسطینی بھی قبول نہیں کرسکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
