فلسطینی اوقاف کونسل کے چیئرمین اور ممتاز عالم دین الشیخ عبدالعظیم سلھب نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور اس کے تمام ریاستی ادارے ایک سوچھی سمجھی سازش کے تحت مقبوضہ بیت المقدس کو اس کے اصل باشندوں سے پاک کرتے ہوئے
یہاں یہودیوں کو آباد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی عرب باشندے بیت المقدس کے آئینی شہری ہیں۔
اسرائیل ایک سازش کے تحت ان آئینی باشندوں کو وہاں سے نکال باہر کرنے اور ان کی جگہ یہودی آباد کاروں کو بسانے کے منصوبوں پرکام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں فلسطینی شہریوں کی جبری شہر بدری، مسجد اقصٰی پر یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کے چھاپوں، شہر میں ہونے والی کھدائیوں اور دیگر تمام سازشوں کا اصل مقصد مقامی فلسطینی شہریوں کا ناطقہ بند کرنا اور انہیں وہاں سے نکل جانے پر مجبور کرنا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ السلھب کا کہنا تھا کہ محکمہ اوقاف اور اقصیٰ فاؤنڈیشن کی تعمیراتی کمیٹی کے تعاون سے مسجد اقصٰی کی تعمیرومرمت کے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ صہیونی فوج نے اوقاف اسلامیہ کے منصوبوں کو تعطل میں ڈالنے کے لیے مسجد اقصیٰ کے گردو پیش خفیہ کیمرے نصب کر کے ہمیں تعمیراتی کاموں سے روکا جا رہا ہے۔
اپنے ایک بیان میں فلسطینی عالم دین کا کہنا تھا کہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مناسبت سے مسجد اقصیٰ میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن صہیونی حکام کی جانب سے بیت المقدس کو فلسطین کے دوسرے علاقوں سے کاٹ کررکھ دیا گیا۔ اس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ اسرائیل کی تمام ترسازشوں کا محورومرکز بیت المقدس اورمسجد اقصیٰ ہیں۔ صہیونی ریاست فلسطینیوں کوان مقدس مقامات سے دور کرنا چاہتا ہے۔
الشیخ سلھب کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ اور اس کے مضافات میں تمام مقدس مقامات بیت المقدس کے قدیم اور جدید حصے صرف فلسطینیوں کی آئینی اور تاریخی ملکیت ہیں۔ یہودیوں کا ان مقدس مقامات پرکوئی حق نہیں ہے۔ یہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا مشترکہ عقیدہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
