شمالی فلسطین کے عرب شہروں سے اسرائیل کے منتخب رکن پارلیمنٹ محمد برکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ فلسطینی عوام اسرائیل کی جانب سے اراضی اور آبادی کے تبادلے کے کسی بھی فارمولے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مغربی کنارے پر اپنا کنٹرول قائم رکھنا چاہتا ہے اور فلسطینیوں کو لولی پاپ کے ذریعے گمراہ کرنے اور ان سے دھوکہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں محمد برکہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم فلسطینی اراضی اور آبادی کو ایک کھلواڑ بنانا چاہتے ہیں۔ اسرائیلیوں نے پہلے ہی فلسطینی عوام کو اراضی کے لٹیروں کے ٓذریعے طرح طرح کی مصیبتوں میں ڈال رکھا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں عرب رکن کنیسٹ کا کہنا تھا کہ فلسطینی اراضی اور آبادی کی تبادلے کا فارمولہ پہلی مرتبہ پیش نہیں کیا گیا بلکہ سب سے پہلے یہ تجویز سنہ 1999 ء کو اسرائیل کی لیبر پارٹی کی حکومت نے دی تھی۔ اس کے بعد سنہ 2004 ء میں آوی گیڈور لائبرمین نے بھی اسے آگے بڑھایا۔ سنہ 2007 ء میں انا پولیس میں ہونے والی امن کانفرنس میں بھی یہ تجویز پیش کی گئی تھی۔ اسرائیل نے اس تجویز کے ساتھ صہیونی ریاست کو”یہودی ملک” کے طورپر قبول کرنے کی شرط عائد کی تھی۔ فلسطین کی جانب سے تمام مراحل پر آبادی کےتبادلے کی تجاویز مسترد کردی تھیں۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں محمد برکہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام زمین کے ٹکڑوں کے حصول کے لیے جنگ نہیں لڑ رہے ہیں۔ ہم نے قربانیاں اس لیے نہیں دیں کہ صہیونی ریاست ہمیں ایک مرکز پرجمع ہونے کے بجائے ٹکڑوں میں بانٹ دے۔ فلسطینی ہی اس اراضی کے اصل مالک ہیں۔ ان میں یہودی کالونیوں کا کوئی جواز تھا نہ آئندہ ہوگا۔
