تین ماہ کے اس عرصے میں اسرائیلی میڈیا بھی فلسطینی اسیران کے حقوق کےخلاف زہریلا پروپیگنڈہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
انسانی حقوق سینٹر کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین ماہ قبل جب فلسطینی اتھارٹی نے صہیونی ریاست کےساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالاہے، اس کے بعد سے قابض فوج کی نہتے فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی صہیونی فوج کی اس ریاستی دہشت گردی کی روک تھام میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حکومت فلسطینی اتھارٹی سے مذاکرات کی آڑ میں مغربی کنارے، وادی اردن، بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے شہروں میں نہتے شہریوں کےخلاف روز مرہ کی بنیاد پر جارحیت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل نے ایک جانب مذاکرات شروع کرنے کے عوض 52 فلسطینیوں کو رہا کرکے بہت بڑا احسان کیا۔ صہیونی میڈیا اپنی حکومت کی اس "نوازش” کے گن گاتے تھکتا نہیں اور دوسری جانب قابض فوج نے غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور بیت المقدس سمیت کئی شہروں میں کریک ڈاؤن میں ایک ہزار ایک سو بیس فلسطینی گرفتارکرلیے ہیں۔
