اسرائیلی حکام کی جانب سے مشرقی بیت المقدس میں فلسطینی اکثریتی کالونی "العیسویہ” میں فلسطینی باشندوں کو مکانات مسمار کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
جاری کردہ نوٹسز میں کہا گیا ہےکہ فلسطینیوں نے اپنی مرضی اور اسرائیلی میونسپل انتظامیہ کی اجازت کے بغیر مکانات تعمیر کر رکھے ہیں۔ فلسطینی خود انہیں گرا دیں ورنہ فوج کی مدد سےانہیں مسمار کردیا جائے گا۔
فلسطینیوں کی مقامی نمائندہ کمیٹی کے رکن محمد ابوالحمص نے میڈیا کو بتایا کہ اتوار کے روز اسرائیلی پولیس اور بیت المقدس کی اسرائیلی شہری انتظامیہ کےاہلکاروں نے شمال مشرقی بیت المقدس میں عیسویہ کے مقام پر گھروں پر چھاپے مارے۔ اس موقع پرصہیونی انتظامیہ کی جانب سے کئی فلسطینی شہریوں میں مکانات فوری طور پر مسمار کرنے کے حکم نامے بھی تقسیم کیے گئے۔ ابوالحمص کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے مکانات مسماری کےنوٹسز ملنے کے بعد مقامی آبادی میں خوف اور سخت اشتعال پایا جا رہا ہے۔ مکانات کی مسماری سے دسیوں افراد سردی کے موسم میں مکان کی چھت سے محروم ہوجائیں گے۔
فلسطینی سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے جن مکانوں کی مسماری کے احکامات دیے ہیں وہ کئی سال سے وہاں پر تعمیر شدہ ہیں اور ان میں سیکڑوں افراد رہائش پذیر ہیں۔
ابوالحمص نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس کی نگارانی میں صہیونی انتظامیہ نے عیسویہ میں ذکریا درویش نامی ایک فلسطینی کا چار منزلہ عمارت کو مسمار بھی کردیا۔ مکان کی مسماری سے قبل وہاں پرمقیم فلسطینیوں کا سامان باہرپھینکا گیا اور مکینوں سے کہا گیا کہ وہ مکان سے دور ہوجائیں کیوںکہ اسے مسمار کیا جا رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
