قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین پر دھاوا بول دیا اور اس کے مختلف مضافاتی علاقوں پر چھاپے مارنے کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر فوجی ناکے لگا دئیے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ متعدد فوجی گاڑیوں نے جنین پر دھاوا بول دیا اور 24 سالہ سمیر ابو الحسن کے گھر دھاوا بولنے کے بعد انہیں حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
مقامی افراد کے مطابق غاصب فوج نے شہر کی سڑکوں پر گشت کی اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی غرض سے گولیاں اور اسٹن گرینیڈ چلاتے رہے۔
اسرائیلی فوجیوں نے الخلیل شہر اور بیت عمار گائوں میں بھی دھاوا بول دیا اور وہاں سے دو بھائیوں سمیت چار فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔
اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فوجیوں نے شہر سے دو نوجوانوں کو ہتھیار اور اسلحہ رکھنے کے الزام میں حراست میں لیا ہے جبکہ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قابض فوج نے دونوں بھائیوں اور ان کے والد کو گھر پر دھاوے اور تلاشی کے بعد حراست میں لیا گیا۔
اس موقع پر بیت عمار گائوں میں موجود انسانی حقوق کے کارکن محمد عواد نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے علی الصباء گائوں پر دھاوا بول دیا اور متعدد گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کے بعد 24 سالہ صہیب ابو ماریہ کو حراست میں لے لیا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
ایک اور واقعہ میں اسرائیلی فوج نے بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی صحافی محمد ابو خضیر کو اللد [بن غوریان] ائیرپورٹ پر مصر سے واپسی پر گرفتار کرلیا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کی حراست میں 13 دنوں تک کی توسیع کردی ہے اور انہیں ان کے وکیل سے بھی ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی حراست کے بعد اسرائیلی پولیس نے بیت المقدس میں خضیر کے گھر پر دھاوا بول دیا اور وہاں سے خضیر کے ملکیتی سامان کو قبضے میں لے لیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
