اسلامی تعاون تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ قابض حکام کی جانب مسجد اقصٰی کو تقسیم کرنے کی کوششیں اور یہودیوں کی جانب سے مسجد میں تلمودی رسومات کی ادائیگی مذہبی جنگ کے شروع ہونے کا موجب بن سکتی ہے۔
یہ بات جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے مرکزی دفاتر میں کونارکی، جمہوعیہ نیو گینی میں ہونے والے اسلامی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے چالیسویں سالانہ سیشن کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے ہونے والے سینیئر عہدیداران کے اجلاس میں کہی گئی ہے۔
ملاقات میں ایک وزارتی بیان کا ڈرافٹ جاری کیا گیا جس میں اسرائیل کو مسجد اقصیٰ کو یہودیانے اور تقسیم کرنے کے منصوبوں سے پوری دنیا کے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے نتائج سے خبردار کیا۔
تنظیم نے اسرائیل کی جانب سے ان اقدامات اور کوششوں کو قانون کے پردے میں چھپانے کی غرض سے تعصبانہ قوانین کی منظوری کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسی اسکیموں سے مذہبی تنازعات چھڑنے کا خدشہ ہے اور ان سب کا اسرائیل ذمہ دار ہوگا۔
میٹنگ میں 1981 میں ہونے والی تیسری اسلامی سمٹ کانفرنس کے فیصلے کا ذکر کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ،”اسلامی ممالک [ممبر ممالک] اپنی تمام قوتوں کو بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے صیہونی فیصلے کا مقابلہ کرنے اور صیہونی آئین کو ماننے والی ریاستوں کا معاشی اور سیاسی بائیکاٹ کرنے میں صرف کریں گی۔”
