اس رپورٹ میں اگست 2012 سے لے کر ستمبر 2013 تک شام میں موجود فلسطینی مہاجر کیمپوں کے مہاجرین کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بیان کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 105 مہاجرین کو یا تو قتل کردیا گیا یا وہ تفتیشی مراکز میں تشدد کی وجہ سے مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہسپتالوں سے زخمی افراد کو سیکیورٹی ادارے کس طرح اغوا کرلیتے ہیں، سیکیورٹی ناکوں پر گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ شامی سرکاری فوج کی جانب سے چھاپوں کے دوران تشدد اور اجتماعی قتل کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔
رپورٹ میں شامی حزب اختلاف سے منسلک گروہوں کی جانب سے کی جانیوالی اغوا کی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ میں ان فلسطینوں کے مقدر پر بھی سوال اٹھایا جاتا ہے جو کہ شامی حکومت کی جانب سے مردہ قرار دئیے جاتے ہیں مگر شامی حکومت ان فلسطینیوں کی لاشیں ان کے خاندانوں کے حوالے کرنے سے انکار کرتی آرہی ہے۔
یوفری نیٹ ورک اور ایکشن گروپ نے شامی حکومت اور مسلح حزب اختلاف سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام اسیران اور شہید فلسطینی اسیران کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔
دونوں اداروں نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ شامی جیلوں اور تفتیشی مراکز میں ہونے والی انسانیت سوز کارروائیوں کا نوٹس لیں اور ان کے خلاف آواز بلند کریں۔
یوفری نیٹ ورک اور ایکشن گروپ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی رپورٹ کو سفارتخانوں، انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر تک پہنچائیں گے اور اسکے ساتھ ساتھ یورپی پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کونسل کو بھی یہ رپورٹ پہنچائیں گے تاکہ ضروری اقدامات اٹھائے جاسکیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
