فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی اجازت سے انتہا پسند یہودی مختلف غیرسرکاری تنظیموں کے تعاون سے غیرمعمولی تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سلفیت سے فلسطینی شہریوں نے بتایا ہے کہ یہودی آباد کاروں نے ان کی زرعی اراضی پر تعمیرات کا کام تیز کردیا ہے۔ غیر قانونی اور غاصبانہ انداز میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں میں انتہا پسندوں کو صہیونی فوج اور پولیس کی بھی مدد حاصل ہے کیونکہ فلسطینی شہری جب بھی اپنی زرعی زمینوں کی طرف جاتے ہیں تو اسرائیلی فوج انہیں جانے سے روک دیتی ہے۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ سلفیت میں "اورئیل” یہودی کالونی کے اندر اور اس کے باہر یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کی اراضی پرمتعدد کئی منزلہ پلازے کھڑے کردیے ہیں۔ تعمیرات کا کام تیزی سے جاری ہے اور زمینوں کے مالکان کو اس طرف جانے سے طاقت کے ذریعے روکا جاتا ہے۔
فلسطین میں یہودی آباد کاری پرنظر رکھنے والے فلسطینی تجزیہ نگار خالد معالی نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں کی تازہ تعمیرات ارئیل عبرانی یونیورسٹی کے قریب جاری ہیں، جہاں کئی منزلہ پلازے کھڑے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کالونی میں مجموعی طور پر 12 ہزار یہودی آباد کار آباد ہیں۔ کالونی میں مزید یہودیوں کی آباد کاری کے لیے تعمیراتی کام تیز کردیا گیا ہے۔
