فلسطین کے مقبوضہ علاقوں بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کے زیرانتظام ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں نیر برکات تیسری مرتبہ بیت المقدس کے میئر منتخب ہوگئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس میں بلدیاتی کونسلوں کے انتخابات گذشتہ منگل کو ہوئے تھے۔ ان انتخابات میں پچھلے دور میں میئر رہنے والے نیر برکات نے 51 فی صد ووٹ حاصل کرکے دوبارہ میئر شپ کے حصول میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ان کامقابلہ انتہا پسند یہودی تنظیم "جیوش ہوم” کے موشے لیئون کے ساتھ تھا جس نے مجموعی طورپر 45 فی صد ووٹ حاصل کیے۔کامیابی کے بعد اپنے حامیوں کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نیر برکات نے تمام سیاسی دھڑوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ میری کسی سیاسی جماعت سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور میں سب کو ساتھ لےکرچلوں گا۔ انہوں نے اپنے پہلے اور دوسرے ادوار کے دوران بیت المقدس کی ترقی اور بہود کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی تذکرہ کیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں ٹرن آؤٹ بہت کم رہا۔ مجموعی طور پر 39.9 فی صد رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے۔ انتخابات کے دوران بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں نے بائیکاٹ کردیا تھا۔ نیر برکات کو صرف یہودی آبادکاروں کے ووٹ پڑے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بیت المقدس میں انتہا پسند یہودیوں کی زیادہ تعداد نے ووٹ ڈالے جبکہ لبرل اور روشن خیال یہودیوں کی تعداد بہت کم سامنے آئی ہے۔
