• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

فلسطین کی آزادی کے لیے مسلح جہاد اسٹریٹیجک ضروت ہے: حماس

اتوار 29-09-2013
in فلسطین
0
plf 29 hamas
0
SHARES
0
VIEWS

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے واضح کیا ہے کہ ہم ایسا کوئی معاہدہ اور سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے جس کے تحت فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم کرنے کی بات کی گئی ہو۔ ایسے کسی بھی سمجھوتے کو تسلیم کرنے کا مطلب مسجداقصیٰ، بیت المقدس اور ارض فلسطین پرصہیونیوں کا ناجائز تسلط تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی جانب سے تحریک انتفاضہ الاقصٰی دوم کے تیرہ سال مکمل ہونے کی یاد میں ایک خصوصی بیان جاری کیا گیا۔ خصوصی پیغام میں کہا گیا ہے کہ حماس ایسے کسی معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گی جس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حمایت کی گئی ہو۔ ہم ارض فلسطین کی ایک انچ زمین سے بھی دستبردار نہیں ہوسکے ہیں۔ ہمارے اپنے دیرینہ مطالبات اور حقوق ہیں۔ فلسطینی عوام کسی دوسرے کے ملک میں اپنے لیے آزادی نہیں مانگ رہے بلکہ اپنے ہی وطن کو ایک دشمن قوت سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ ہمارے مقدسات صہیونی دشمن کے تسلط میں ہیں۔ غاصب فلسطینی قوم نہیں بلکہ صہیونی دشمن غاصب ہے، جس نے نصف صدی سے ہم سے ہمارا وطن ، آزادی اور تمام مقدس مقامات چھین رکھے ہیں۔ حماس ارض فلسطین اور قبلہ اول کی آزادی کے لیے مسلح جدو جہد سےدستبردار نہیں ہوگی کیونکہ مسلح جہاد ہی دراصل آزادی فلسطین کا تزویراتی آپشن ہے۔

خیال رہے کہ فلسطین میں دوسری تحریک انتفاضہ 28 ستمبر 2000 ء کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب سابق صہیونی وزیراعظم ارئیل شیرون نے اپنے ناپاک قدم مسجد اقصٰی میں رکھے تھے۔ اس پر فلسطینی غصبے میں آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے صہیونیوں کی اس گستاخی کے خلاف ایک طویل تحریک کا آغاز کردیا تھا، جسے تحریک انتفاضہ الاقصیٰ دوم کا نام دیا گیا۔

حماس نے اپنے پیغام میں فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل سے مذاکرات کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان جاری نام نہاد امن مذاکرات صہیونیوں کے ہمارے مقدسات کے خلاف جاری جرائم کی پردہ پوشی کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوچکے ہیں لیکن فلسطینی اتھارٹی دل بہلائی اورامریکی و اسرائیلی خوشنودی کے لیے اسے جاری رکھے ہوئے ہے۔

حماس نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون ختم کردے۔ اسرائیل سے مذاکرات روک دے اور قومی مفاہمت کی طرف توجہ دے کیونکہ مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں۔ فلسطینی عوام ایسے مذاکرات اوران کے نتائج کوتسلیم نہیں کریں گے کیونکہ حماس اورپوری قوم ارض فلسطین کی ایک اینچ بھی صہیونیوں کو دینےکے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.