پانے والے فلسطینی اسیر نزیہ ابو عون نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مزاحمت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی وجہ سے فلسطینی اسیران اپنی رہائی کا سب سے کارگر طریقہ کھو چکے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی اسیران ان شرمناک مذاکرات کے ذریعے سے رہائی پانے سے انکار کررہے ہیں اور عالمی عدالت انصاف میں نہ جانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
28 ماہ کی انتظامی قید کاٹنے کے بعد سے رہا ہونے والے فلسطینی اسیر کا کہنا ہے کہ اسیر پروقار طریقے سے اپنی آزادی چاہتے ہیں۔ ابو عون نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں اسرائیلی جرائم کے خلاف جانے کا ارادہ ترک کرنے کے فلسطینی اتھارٹی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر تمام فلسطینی اسیران کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
