فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ پوری اسلامی دنیا فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مابین مذاکراتی عمل کی حامی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور اسرائیل سنہ 1967ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جانے پر تیار ہوتا ہے تو اس صورت میں ستاون مسلمان ملک اسرائیلی ریاست سے تعلقات قائم کر لیں گے۔فلسطینی اتھارٹی کی ترجمان خبر رساں ایجنسی”معا” کی رپورٹ کے مطابق محمود عباس نے ان خیالات کا اظہار نیویارک میں یہودی تارکین وطن کی ایک تقریب سے خطاب میں کیا۔
محمود عباس کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے چھ سے نو ماہ کی مہلت ہے۔ مذاکرات کے اس عرصے میں اسرائیل104فلسطینی اسیران کی رہائی کا پابند ہو گا جبکہ فلسطینی اتھارٹی اس عرصے میں آزاد ریاست کا معاملہ کسی عالمی فورم پر نہیں اٹھائے گی۔ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور اسرائیل سنہ 1967ء کی جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جانے کا اعلان کرے تو تمام کے تمام ستاون مسلمان ملک تل ابیب کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیں گے۔
خیال رہے کہ ان دنوں امریکی ثالثی کے تحت فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔ دو ماہ سے جاری امن مذاکرات میں ب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ فلسطینی صدرمحمود عباس کی جماعت’فتح’ کے سوا باقی کوئی نمائندہ فلسطینی ان مذاکرات کی حامی نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
