فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں جمعہ کے روز مختلف شہروں میں یہودی آباد کاروں نے تلمودی تعلیمات کے مطابق عبادت کی آڑ میں کئی اہم مقامات پر دھاوے بولے اور فلسطینی شہریوں کو زدو کوب کیا۔ صہیونیوں کے تشدد کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کو علی الصباح یہودی آباد کاروں نے مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں برک سلیمان، خلہ الفحم، بئر حرم الرامی اور الخلیل شہر میں متعدد مقامات پر جمع ہو کر تلمودی تعلیمات کے مطابق رسومات ادا کیں۔
مقامی فلسطینی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ برک سلیمان کے مقام پر عبادت کی ادائیگی کے لیے جمع ہونے والے یہودی آباد کاروں کی تعداد کم سے کم تین سو کے لگ بھگ تھی۔ یہ یہودی "افرات” یہودی کالونی کے راستے وہاں پہنچے اور الخضر نامی شہری کے کھیتوں میں جمع ہو کر تلمودی رسومات ادا کرنا شروع کردیں۔ یہودی آباد کاروں کی آمدو رفت کا سلسلہ شام تک جاری رہا۔ اس موقع پر صہیونی پولیس اور فوج نے یہودی آباد کاروں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کر رکھی تھی۔ کچھ یہودی برک سلیمان میں عبادت کی ادائیگی کے بعد وہاں سے "ام حمدین” کے مقام پر بنائے گئے معبد میں چلے گئے ، جہاں انہوں نے دوبارہ تلمودی رسومات ادا کیں۔
عینی شاہدین کے مطابق الخضر قصبے میں” خلہ الفحم” کے مقام پر یہودیوں کے جمع ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور قصبے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا۔ یہودی آباد کاروں کے آس پاس رکاوٹیں کھڑی کرکے ان کی طرف آنے والے تمام راستے بند کردیے گئے۔ اس موقع پر صہیونی فوج کی جانب سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ "یہودی عیدالعرش” کی تقریبات منا رہے ہیں۔ فلسطینی ان کے قریب نہ آئیں ورنہ کسی ناخوشگوار واقعےکی ذمہ داری فلسطینیوں ہی پر عائد کی جائے گی۔
ادھر مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کی شرپسندانہ کارروائیوں میں دو فلسطینی شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ القدس میں اسیران کلب کےایک عہدیدار ناصر قوس نے بتایا کہ انتہا پسند یہودیوں نے دو فلسطینیوں کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ باب الحدید کے مقام پر اپنے گھروں کے باہر کھڑے تھے۔ یہودی آباد کاروں کے حملےمیں اٹھارہ سال حسین جابر کے سر اور کمر میں گہرے زخم آئے ہیں۔ دونوں مجروحین کو ایک مقامی اسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
