قابض اسرائیلی فوجیوں نے 2012 میں مصری ثالثی کے ذریعے طے پانے والے امن معاہدے کی ایک مرتبہ پھر خلاف ورزی کر تے۔ صبح سویرےغزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع "جوہردق” نامی قصبے پر یلغار کردی ۔ک اس دوران فلسطینیوں کے گھروں گاڑیوں اور اہل خانہ کو اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ۔
عینی شاہدین کے مطابق ڈرپوک یہودیوں نے محض ایک قصبے کی زرعی زمینوں کو نقصان پہنچانے کیلئے اسرائیلی فوجیوں نے بکتر بند گاڑیوں ٹینکوں اور بلڈوزر وں سے حملہ کیا اور طے شدہ امن لائن سے زبردستی 300 میٹر اندر تک گھس آئے۔
سرحد کی خلاف ورزی کرنے کے بعد اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں سے فلسطینیوں کے کھیتوں پر اندھا دھند گولیاں چلانا شروع کر دیا جسکا مقصد فلسطینیوں میں خوف زدہ کر کے اپناعلاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا ۔
ذرائع نے مذید بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے کھڑی فصلوں کواکھاڑ کر نیست و نابودکرنے کا آپریشن کیا جسکا اثر عوام کو معاشی طور پر بھی برداشت کرنا پڑے گا۔
یاد رہے کہ قابض صہیونی فوجی آئےدن نومبر 2012ء میں ہونے والی جنگ کے بعد مصری ثالثی میں فلسطینی مزاحمتی تحریک اوراسرائیلی حکام کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتےچلے آرہے ہیں ۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
