اسرائیلی فوج اور محکمہ شاہرات نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں قائم یہودی کالونیوں کو باہم ملانے کے لیے سڑک کی تعمیر کی خاطر فلسطینی اراضی کی کھدائی شروع کر دی ہے۔
اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ منگل کے روز صہیونی حکام نے "گوش عتصیون” کالونی کے قریب سڑک کی تعمیر کے لیے میشنری پہنچا دی گئی ہے۔ یہ کالونی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم اور مقبوضہ بیت المقدس کے درمیان قائم کی گئی ہے۔ اس کالونی کو ایک بڑی شاہراہ عام کے ذریعے دیگر کالونیوں سے مربوط بنایا جا رہا ہے۔
اخبار معاریف کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز اسرائیلی دو وزیر، خارجہ وقومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین آوی گیڈور لائبرمین، متعدد حکومتی سیکرٹریز اور دیگر عہدیداروں نے گوش عتصیون کے قریب سڑک کی کھدائی کے لیے منصوبے کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یہودی کالونی کے آباد کاروں کو حکومت کے نئے منصوبے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
اخبار لکھتا ہے کہ جس علاقے میں یہ سڑک تعمیر کی جائے گی سنہ 1994ء میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان طے پائے اوسلو معاہدے کی رو سے وہ علاقہ فلسطینی انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے۔ ان دنوں اسی علاقے کے تبادلے کے بارے میں مذاکرات بھی چل رہے ہیں۔ یہ سڑک مغربی کنارے کے "سیکٹر سی” سے بھی گذرے گی جو سیکیورٹی اور انتظامی طورپر اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے اور بیت المقدس کے درمیان یہودی کالونیوں کو مربوط بنانے والی اس سڑک کی تعمیر پر ایک کروڑ ڈالر کی لاگت آئے گی جسے اگلے ڈیڑھ سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔ سڑک کی تعمیر کے بعد بیت لحم میں بحر مردار سےمقبوضہ بیت المقدس تک صرف 27 منٹ کی ڈرائیو کا فاصلہ رہ جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
