فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 1967ء کے بعد صہیونی فوج نے74فلسطینیوں کو حراست میں لینے کے فوری بعد گولیاں مار کر انہیں شہید کیا ہے۔
انسانی حقوق گروپ کی جانب سے جاری رپورٹ میں منگل کے روز مغربی کنارے میں انیس سالہ نوجوان اسلام سعید الطوباسی کی صہیونی فوج کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے کے دو گھنٹے کے بعد شہادت کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ جس طرح صہیونی فوجیوں نے طوباسی کوحراست میں لینے کے کچھ ہی دیر بعد گولیاں مار کر شہید کردیا اسی طرح پچھلے کئی سال سے صہیونی فوج کرتی آ رہی ہے اور اب تک چوہتر فلسطینی اسی بے رحمانہ طریقےسے شہید کیے جا چکے ہیں۔
اسیران فلسطین اسٹڈی سینٹر کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیاگیا ہے کہ جنین میں صہیونی فوج مہاجر کیمپ میں سلام طوباسی کو پکڑنے کے لیے نہیں بلکہ اسے قتل کرنےکے لیے داخل ہوئی تھی۔ انہوں نے طوباسی کو شہید ہی کرنا تھا، یہی وجہ ہےکہ گرفتاری کے وقت اسے پکڑنے کے لیے نہیں بلکہ شہید کرنے کے لیے اس پر گولیاں چلائی گئیں۔ جب وہ شدید زخمی حالت میں زمین پر گرا تو اسے گھسیٹ کر ایک فوجی گاڑی میں ڈال دیا گیا تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ فلسطینی نوجوان مزاحمت کرتے ہوئے زخمی ہوا ہے اور اسے پکڑ لیا گیا ہے۔ بیان میں فلسطینی شہری پر اس بہیمانہ انداز میں گولیاں چلانے کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا گیا۔
انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ چند سال قبل صہیونی جیلوں میں فلسطینی اسیران کی تحریک کے دوران اسی طرح کی ایک خوفناک مثال قائم کی گئی تھی۔ فلسطین اسیران کی تحریک دبانے کے لیے قیدیوں پر براہ راست گولیاں ماری گئیں اور بہانہ یہ تراشا گیا کہ وہ جیلوں سے فرار کی کوشش کر رہے تھے حالانکہ انہیں گولیاں جیل کے احاطے کے اندر ماری گئیں۔ گولیاں لگنے کے بعد انہیں کسی قسم کی طبی امداد فراہم نہیں کی گئی اور نہ انسانی حقوق کے گروپوں کو امدادی کارروائیوں کی اجازت فراہم کی گئی۔ زخمی فلسطینی قیدی کئی گھنٹے تک تڑپ تڑپ کر جانیں دیتے رہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
